میری کوئی اولاد نہیں، 2003ءمیں ہم نے ایک بچی گود لی ہے ، آج تقریباً وہ چودہ سال کی ہو گئی ہے، میں اس کے لیے غیر محرم ہوں، میرے بھائی کے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے ، کیا میں اپنی بھابی کا دودھ اپنی بیٹی کو پلا سکتا ہوں؟ اور اس طرح میں اپنی گود لی ہوئی بیٹی کا محرم ہو سکتا ہوں؟ جواب ضرور دیجئے گا۔ میں اس مسئلے کی وجہ سے ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں۔
ڈھائی سال کی عمر کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی، اس لیے سائل اپنی لے پالک بچی کو بھابی کا دودھ نہیں پلا سکتا ،جبکہ دودھ پلانے سے سائل کا مقصد بھی پورا نہیں ہوگا۔
کما في الدر المختار: (ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله ولم يبح الإرضاع بعد مدته) اقتصر عليه الزيلعي، وهو الصحيح كما في شرح المنظومة بحر، لكن في القهستاني عن المحيط: لو استغنى في حولين حل الإرضاع بعدهما إلى نصف ولا تأثم عند العامة خلافا لخلف بن أيوب اهـ ونقل أيضا قبله عن إجارة القاعدي أنه واجب إلى الاستغناء، ومستحب إلى حولين، وجائز إلى حولين ونصف اهـ. قلت: قد يوفق بحمل المدة في كلام المصنف على حولين ونصف بقرينة أن الزيلعي ذكره بعدها، وحينئذ فلا يخالف قول العامة تأمل اھ (3/ 211)
وفي فتح القدير: (قوله وإذا مضت مدة الرضاع لم يتعلق بالرضاع تحريم) فطم أو لم يفطم، حتى لو ارتضع لا يثبت التحريم (إلی قوله) وفي الموطإ عن ابن عمر: جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال: كانت لي وليدة فكنت أصيبها فعمدت امرأتي إليها فأرضعتها فدخلت عليها فقالت: دونك قد والله أرضعتها، قال عمر: أوجعها وائت جاريتك فإنما الرضاعة رضاعة الصغير اھ (3/ 444)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0