میں راولپنڈی میں رہتا ہوں ، جبکہ میرا گاؤں راولپنڈی سے 200 کلومیٹر دور ہے، میں نے اپنے گاؤں میں ایک مکان تعمیر کیا ہے، لیکن اس مکان میں ہم رہتے نہیں ہیں ، مہینہ دو مہینہ بعد ایک دو دن کے لۓ گاؤں جانا ہوتا ہے تو وہاں رہتے ہیں تو کیا میں گاؤں میں نمازِ قصر پڑھوں گا یا پوری پڑھوں؟
سائل نے اگر راولپنڈی میں ہی مستقل رہائش اختیار کرنے اور اپنے گاؤں میں موجود مکانات و زمینوں کو فروخت کرنے کا پختہ عزم کیا ہو یا وہاں کی وطنیت کو مستقل چھوڑنے کی نیت ہو ، اگرچہ مکان موجود رہیں ، تو ایسی صورت میں سائل کا وطنِ اصلی مذکور گاؤں نہیں ، بلکہ راولپنڈی شمار ہوگا ، لہٰذا وہ جب بھی اپنے سابقہ گاؤں میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کے لۓ آئے گا تو وہ قصر ہی پڑھے گا ، اور اگر دونوں ہی جگہ وطن کو برقرار رکھنے کی نیت ہو ، تو سائل کو دونوں مقامات ( اپنے گاؤں اور راولپنڈی) میں پوری نماز ادا کرنی ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل ، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما اھ (2/ 131)۔
و فی الدر المختار : تحت (قوله أو تأهله) (إلی قوله) و بقي له فيها دور و عقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار اھ (2/ 131)۔
و فی الفتاوى الهندية: و يبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله و أما إذا لم ينتقل بأهله و لكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول و يتم فيهما اھ (1/ 142)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4