غسل کب کب فرض ہوتا ہے ، اگر کسی شخص نے غسل کیا اور فرض ادا نہیں کیا ، تو کیا غسل ہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ندی یا تالاب میں غسل کرے ، تو کیا غسل ہوجائے گا؟ فرض کی ادائیگی نہیں کی اس نے ۔فقط۔ والسلام ۔
مندرجہ ذیل صورتوں میں غسل فرض ہو جاتا ہے :
(1) جوش و شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا ، خواہ نیند کی حالت میں نکلے یا بیداری کی حالت میں۔
(2) مرد کی سپاری کا (شرمگاہ کے)اندر چلے جانا ، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
(3) حیض کے خون کا بند ہو جانا۔
(4) نفاس کے خون کا بند ہو جانا۔
واضح ہو کہ غسل میں تین چیزیں فرض ہیں ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی رہ جائے تو غسل مکمل نہیں ہو گا ، خواہ تالاب میں غسل کر رہا ہو یا کہیں اور ، وہ تین چیزیں درج ذیل ہیں:
(1) منہ بھر کر کلی کرنا
(2) ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا
(3) پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر بھی جگہ خشک نہ رہے۔
کما فی الفتاوی الھندیة : [الفصل الأول في فرائض الغسل]
(الباب الثاني في الغسل) (و فيه ثلاثة فصول) (الفصل الأول في فرائضه) و هي ثلاثة : المضمضة و الاستنشاق و غسل جميع البدن على ما في المتون و حد المضمضة و الاستنشاق كما مر في الوضوء من الخلاصة اھ (1/13)۔
و فیه ایضاً : (الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل و هي ثلاثة) منها الجنابة و هي تثبت بسببين أحدهما خروج المني على وجه الدفق و الشهوة من غير إيلاج باللمس أو النظر أو الاحتلام أو الاستمناء اھ (1/14)۔
و فیه ایضاً : (و منها الحيض و النفاس) يجب الغسل عند خروج دم حيض أو نفاس و وصوله إلى فرجها الخارج و إلا فليس بخارج و لا يكون حيضا ، كذا في التبيين اھ (1/16)۔