السلام علیکم!
میرا ایک دوست ہے، جن سے میرا کاروباری تعلق بھی ہے، وہ مجھ سے ادھار مال لیتا ہے، جس کی ادائیگی بھی اقساط میں ہوتی رہتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ معاملات ویسے تو درست ہیں، مگر دو باتیں ہیں، جن کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے آپ حضرات سے رہنمائی درکار ہے، میرے دوست حساب کتاب رکھنے کے معاملے میں بہت لاپرواہ ہیں، میں گزشتہ دو سالوں میں تین دفعہ خطیر رقوم ان کو لوٹا چکا ہوں، جس کا ان کے پاس حساب ہی نہیں تھا، جب کہ وہ رقوم مجھے ادا کر چکے تھے ، ادائیگی کے معاملے میں بھی لا پرواہی مزاج کا حصہ ہے، وعدہ کی کوئی پاسداری نہیں ہے، وصولیاں ہو گئیں تو ادائیگی ہو گی ورنہ ٹال مٹول یا فون بند؟ مگر ادائیگی ضرور ہوتی ہے ، باوجود کئی بار ٹوکنے کے یہ عادات پختگی کے ساتھ موجود ہیں، بلکہ اضافہ ہی ہوا ہے جس کا ثبوت ہے کہ اس وقت بھی ایک خطیر رقم میرے پاس موجود ہے جس کا ان کے پاس کوئی حساب نہیں ہے، میری تقریباً دو گنا سے چار گنا رقم کا ادہار رہتا ہے ، اس لا پرواہی کی عادت نے جو کاروباری خطرات عیاں کی ہیں آپ حضرات ان کو یقیناً سمجھ رہے ہونگے، کیونکہ میری ایک خطیر رقم بصورت ادھار پھنسی رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
(1) میں اس رقم کہ بطورِ امانت اپنے پاس بغیر علم میں لائے رکھ سکتا ہوں؟ جب کہ میں بلا تعطل ہر وقت اس سے دو گنا سے چار گنا رقم کا لین دار بھی ہوں، موجودہ حالات اور واقعات کے پیش نظر کسی حد تک کاروباری تحفظ کے نقطہ نظر سے کوئی گنجائش ہے؟ ( ہمارے مشتر کہ دوستوں ہی نے مجھے اس وقت محتاط رہنے کا مشورہ دیا تھا، جب ان سے کام شروع کرنے سے پہلے میں نے مشورہ کیا تھا، یہ معاملہ ہمارے ان دو مشتر کہ دوستوں جو کہ ان کے رشتہ دار بھی ہیں کے بھی علم میں ہے، کھاتے میں بھی اس رقم کی نام کے ساتھ بطور امانت انٹری ہے، میری اہلیہ کے بھی علم میں ہے ؟ )
(2) جو رقم میرے پاس بطورِ امانت موجود ہے وہ چونکہ رقم کے مالک کے علم میں ہی نہیں ہے اور اس پر سال بھی پورا ہو رہا ہے تو اس کی زکوٰۃ کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی ؟ براہ کرم راہ نمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔ جزاک الله خیراً
سائل کے دوستوں نے اسے صحیح مشورہ دیا ہے ، سائل کو چاہیئے کہ اپنے مذکور دوست کے ساتھ بیٹھ کر تمام معاملات کو واضح کر کے حساب کتاب کیا کرے ، جبکہ مذکور دوست کی طرف سے جب تک سائل کے کسی حق کا انکار نہ ہو، اس وقت تک اس کی دوسری مدّوں کی رقوم کو اپنے قرضہ میں حساب کر کے یا آئندہ کے خدشات کی بناء پر روکے رکھنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ۔
كما في الدر المختار: (هو) لغة: من الودع أي الترك وشرعا (تسليط الغير على حفظ ماله صريحا أو دلالة) اھ (5/ 662)۔
وفيه أيضا: (هي) لغة أخذ الشيء من الغير خفية، (إلی قوله) وشرعا باعتبار الحرمة أخذه كذلك بغير حق نصابا كان أم لا، وباعتبار القطع (أخذ مكلف ناطق بصير عشرة دراهم) اھ (4/ 82)۔
وفيه أيضا : (هو) لغة: حبس الشيء. وشرعا (حبس شيء مالي بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه (منه) كلا أو بعضا كأن كان قيمة المرهون أقل من الدين (كالدين حقيقة أو حكما) كالأعيان (المضمونة بالمثل أو القيمة) اھ (6/ 478)۔
و في حاشية ابن عابدين: أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان لا سيما في ديارنا لمداومتهم للعقوق اھ (4/ 95)۔
وفيه أيضا: (قوله وقيل إذا أيس إلخ) كذا عبر في المنح: وظاهره أنه من غير جنس حقه، وإلا فلو من جنسه فله أخذ قدر حقه منه بلا كلام ولا وجه لحكايته بقيل. على أنا قدمنا في كتاب الحجر عن المقدسي عن بعضهم أن الفتوى اليوم على جواز الأخذ مطلقا اھ (6/ 501)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0