میرا عقیقہ بچبن میں نہیں ہوا، اب میری عمر 23سال ہے،کیا اب بکرا ذبح کرنا ہوگا یا اس جتنی رقم صدقہ کردی جائے؟
عقیقہ کا مستحب وقت بچے کی پیدائش کے ساتویں دن یا چودویں دن یا اکیسویں دن ہے،اگر ان تاریخوں میں عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو بعد میں جب بھی چاہیں زندگی میں کیا جاسکتا ہے،لہذا سائل چاہے تو اپنا عقیقہ اب بھی کرسکتا ہے،مگر یہ لازم اور ضروری نہیں،اپنی گنجائش اور استطاعت پر موقوف ہے۔
کمافی الھندیة: العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري وذكر محمد - رحمه الله تعالى - في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونها سنة اھ(5/362)۔
وفی الفقه الاسلامی وأدلته: لاتختص العقیقة بالصغر فیعق الاب عن المولود ولو بعد بلاغہ لانه لا آخر لوقتھا اھ(3/638)۔
وفی التنقیح: ووقتھا بعد تمام الولادة الیٰ البلوغ(الیٰ قوله) ویسن ان یعق عن نفسه من بلغ ولد یعق عنه اھ(2/233)۔