میرا ایک ہی ماموں ہے، جو انگلینڈ میں رہتے ہیں،کافی سال پہلے وہ وہاں گئے، اور انہوں نے بینک سے سودی نظام کے تحت ادھار لے کر کاروبار شروع کیا، جو اچھا چلا، پھر بقول ان کے بعد میں انہوں نے اس سے سود ختم کر دیا ،ابھی کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ایک اور ہوٹل کھولا ،جو اچھا چل پڑا تو انہوں نے اس کے ساتھ بار بھی کھول لیا جہاں شراب بیچی جاتی ہے ،فیملی کا اعتراض ہے ،انہوں نے کہا کہ میں فیملی کو ہوٹل کا پیسا نہیں بھیجتا ،یہ ان کا قول ہے، اور وہ دین کی زیادہ سمجھ نہیں رکھتا، نہ ہی نماز روزے کا پابند ہے ،ان کی فیملی پاکستان میں ہے ،اور ہمارا ان کے گھر آنا جانا ہے ،آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہمارا ان کے گھر آنا جانا وہاں سے کھانا پینا اور ان کے دیے ہوئے تحفے قبول کرنا جائز ہے یا نہیں۔ شکریہ!
مذکور ہوٹل کی آمدنی حلال ہے، جبکہ ’’بار‘‘جس میں شراب ہی بیچی جاتی ہے ،اس کی آمدنی حرام ہے، اب اگر ہوٹل سے حاصل ہونے والی آمدنی غالب ہو، یا وہ واقعۃً اپنے گھر والوں کو بار کی آمدنی نہ بھیجتا ہو تو پاکستان میں اس کے گھر جا کر کھانے پینے کی گنجائش ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل كذا في الينابيع اھ (5/ 342)-
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0