کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدنے عمر سے ڈالر میں قرض لیا اور اس وعدہ کے ساتھ کہ اس قرض کو میں روپیوں میں ادا کروں گا اور جو قیمت ڈالر کی، یومِ ادائیگی کے دن ہوگی اس اعتبار سے روپے دوں گا تو کیا اس طرح کا معاملہ درست ہے؟ دوسری شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ زید عمر سے ڈالر خریدے اور ڈالر کے بدلے روپے دے لیکن روپے کچھ ماہ کے بعد دے اور قیمت ابھی متعین کر لے جو بازار اور حکومت کے طے کردہ قیمت سے زیادہ ہو تو کیا اس طرح کا معاملہ درست ہوگا۔
ڈالر کی شکل میں قرض لے کر روپوں میں ادا کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ ادائیگی کے دن ڈالر کی قیمت اتنی ہو جتنی روپوں میں ادا ہو رہی ہو اسی طرح ڈالر کو پاکستانی روپوں کے بدلے فروخت کرنا نقد یا ادھار میں درست ہے بشرطیکہ ایک طرف سے قبضہ مجلس عقد میں ہوجائے۔
کما فی رد المحتار: تحت (قولہ فلا عبرۃ بغلائہ ورخصہ) فیہ ان الکلام فی الکساد وہو ترک التعامل بالفلوس ونحوہا (الٰی قولہ) وان استقرض دانق فلوس أو نصف درہم فلوس ثم رخصت أو غلت لم یکن علیہ إلا مثل عدد الذی أخذہ وکذلک لو قال اقرضنی عشرۃ دراہم غلۃ بدینار فاعطاہ عشرۃ دراہم فعلیہ مثلہا ولا ینظر الی غلاء الدراہم ولا الٰی رخصہا وکذلک کل ما یکال ویوزن فالقرض فیہ جائز الخ (۵/ ۱۶۲)
وفی تکملۃ فتح الملہم: واما العملۃ الاجنبیۃ من الأوراق فھی جنس آخر فیجوز مبادلتہا بالتفاضل فیجوز بیع ثلاث ربیات باکتسانیۃ بریال واحد سعودی الخ ((۱/ ۵۹۰) واللہ اعلم.
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0