نکاح

بھابھی کی رضاعی بیٹی سے بھابھی کے دیور کا نکاح کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
25394
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بھابھی کی رضاعی بیٹی سے بھابھی کے دیور کا نکاح کرنا کیسا ہے؟

کیا اسلام میں اُس لڑکی سے نکاح کی اجازت ہے جس نے سگے بھائی کی بیوی ( بھا بھی) کا دودھ پیا ہو اور اس دودھ پلانے میں لڑکی کی حقیقی ماں کی مرضی شامل نہیں تھی، اب اس لڑکی کا نکاح مجھ سے کرایا جارہا ہے جبکہ اس کو دودھ میرے بڑے بھائی کی بیوی نے پلایا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنی رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح البخاري: عن عائشةؓ أن أفلح، أخا أبي القعيس جاء يستأذن عليها، وهو عمها من الرضاعة، بعد أن نزل الحجاب، فأبيت أن آذن له، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرته بالذي صنعت «فأمرني أن آذن له»۔الحدیث (7/ 10)
وفي الهداية: ولا يتزوج المرضعة أحد من ولد التي أرضعت " لأنه أخوها " ولا ولد ولدها " لأنه ولد أخيه۔اھ (1 /218)
وفي الدر المختار: (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)۔اھ (3/ 213)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25394کی تصدیق کریں
1     972
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات