(1) :کیا مسجد میں سود کی کمائی سے حاصل کی گئی رقم لگانا جائز ہے ؟ اگر جائز ہے ،تو کس مصرف میں اور کس حد تک جائز ہے ؟
(2) :اگر مسجد کی کمیٹی کے ممبر سودی کاروبار سے منسلک ہوں، تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟
(3) :مسجد کا اکاؤنٹ , تقریباً تیس سال سے چندے کی رقم UBLکے سیونگ اکاؤنٹ میں ہے، چندے کی رقم اسی اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے، اس حوالے سے کیا حکم ہوگا ؟
سود کی رقم سے یا کسی دوسرے حرام مالِ سے مسجد کی تعمیر یا مرمت کرنا ناجائز ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ مسجد کی انتظامیہ اور کمیٹی میں ایسے لوگوں کو لینا چاہیئے جو نیک صالح دیانت دار ہوں، جبکہ مسجد کا چندہ کسی سودی بینک سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنا اور اس سے سود وصول کرنا بھی حرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
في مشكوة المصابیح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (۱ / ۲۴۴)۔
وفي التفسير المظهرى: إِنَّما يَعْمُرُ مَساجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ أى لم يخف في الدين غير اللّه ولم يترك امر اللّه مخافة غيره والا فالخشية من المخاوف امر جبلى لا يكاد العاقل يتمالك عنها خص اللّه سبحانه عمارة المسجد بالمؤمنين فانهم هم الجامعون لهذه الكمالات العلمية والعملية اھ (ص: 1565)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية اھ (1/ 658)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1