اگر آدمی غسل کرکے نماز پڑھ لے اور پھر خود کو دیکھ لے تو قطرہ نکلا ہوا ہو ، لیکن دورانِ نماز آدمی کو قطرہ نکلنے کا احساس تک نہیں ہو جاتا جب تک دیکھ نہیں لیتا ، پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں غسل اور نماز دونوں کا اعادہ لازم ہے یا صرف نماز کا؟ اور صرف وضو کر کے نماز پڑھے ، پھر خود کو چیک کرے اور قطرہ ہو تو پھر کیا کرےگا ؟
مذکور غسل اگر غسلِ واجب تھا اور اس سے قبل شخصِ مذکور چلا پھرا ہو ، یا غسل سے قبل پیشاب کیا ہو اور اس کے بعد غسل کیا ہو تو اس صورت میں دورانِ نماز جو قطرے نکل گئے ہیں، اس کی وجہ سے وضو اور نماز کا اعادہ لازم ہے ،غسل کا اعادہ لازم نہیں۔
فی الفتاوى الهندية : لو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول أو ينام و صلى ثم خرج بقية المني فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - و لكن لا يعيد تلك الصلاة في قولهم جميعا . كذا في الذخيرة و لو خرج بعد ما بال أو نام أو مشى لا يجب عليه الغسل اتفاقا . كذا في التبيين اھ (1/ 14)۔