شوہر کے خاندان والے اور شوہر بات بات پر جھوٹ بولتے، گالیاں دیتے، مارتے ہیں، ماں باپ کو بری طرح بے عزت کرتے ہیں، اب شوہر نے مجھ سے میری آبائی جائیداد ان کے نام کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، والدین کہتے ہیں کہ لوگ لالچی ہیں ، خلع کیلئے کورٹ میں کیس کیا ہے ، شوہر اللہ اور قرآن کی قسمیں کھا رہے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، کیا مجھے ایسے قسموں کا لحاظ کرنا چاہیئے والدین کی مرضی کے خلاف ؟ مجھے شادی سے پہلے حرام تعلقات کی عادت تھی ، خلع کے بعد پھر حرام کا خدشہ ہے،کیا خلع سے دستبردار ہو جاؤں ؟
جب شوہر نے اپنے غلط مطالبے پر معافی مانگ لی ہے اور سائلہ کو بھی نکاح ختم ہونے کی صورت میں حرام میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ شوہر کاگھر بسانے اور نباہ کی ہرممکن کوشش کی جائے اور خلع سے دستبرداری اختیار کی جائے ۔
کما فی صحيح البخاري: عن علقمة، قال: بينا أنا أمشي، مع عبد الله رضي الله عنه، فقال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «من استطاع الباءة فليتزوج، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم، فإنه له وجاء»۔الحدیث (3/ 26)