۱۔ جب ہم کو علماءکرام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو خدا پکارنے سے احتیاط کرنے کی تاکید کرتے ہیں، اس لیے کہ قرآن میں ہمارے دین اور دنیا کے مالک اپنے آپ کو اللہ سے مخاطب کیا ہے اور اس کو یہی نام پسند ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہم سے صلاۃ قائم کرنے کے لیے کہتا ہے، لیکن ہم نماز پڑھتے ہیں صلاۃ قائم کرنے اور نماز پڑھنے میں کیا فرق ہے؟ ضرور واضح کریں۔
۲۔ قیامت میں ہم سے سوال نماز پڑھنے کا ہوگا یا صلاۃ قائم کرنے کا ہوگا ؟
اگرچہ اللہ کا ذاتی نام ’’ اللہ‘‘ ہے اور اس کا کہنا بہتر ہے، مگر کسی دوسری زبان مثلاً فارسی وغیرہ میں اللہ کا کوئی صفاتی نام مثلاً خدا وغیرہ استعمال کرنا بھی جائز ہے ، جبکہ ’’صلاۃ قائم‘‘ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز، فرائض، واجبات، سنن اور آداب کا لحاظ کرتے ہوئے ادا کیا جائے، اردو زبان میں اس کو نماز پڑھنا کہتے ہیں، بلا وجہ وہم میں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔