میں پاکستان ریلوے میں گارڈ ہوں، روزانہ ۱۰۰ کلو میٹر سے زیادہ سفر کرتا ہوں، کیا میں قصر کروں یا پوری نماز پڑھوں؟ اور اگر روزہ نہ رکھوں تو ساری زندگی روزہ کی قضاء بھی نہیں دے سکتا، قرآن وسنت کی روشنی میں فتویٰ دیں۔
سائل شہر کے حدود سے نکل کر ۱۰۰ کلومیٹر سے زیادہ سفر کرتا ہوتو وہ شرعی مسافر کہلائےگا اور اپنی چار رکعت والی نماز میں قصر کرےگا، اگرچہ پوری زندگی ایسا ہوتا رہے، البتہ اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ روزہ افطار نہ کرے، بلکہ ہمت کر کے رکھ لیا کرے۔
ففی الدر المختار: (من خرج من عمارة موضع إقامته) (إلی قوله) (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) (إلی قوله) (صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس: «إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعاوالمسافر ركعتين» (2/ 122)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4