السلام علیکم!
سب سے پہلے تو یہ شکوہ ہے کہ بہت بار سوال پوچھنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملا آپ سے، لیکن پھر بھی آپ کے ادارے سے محبت رکھتا ہوں ،اور اس مسئلے کی وجہ سے بے چینی کا شکار ہوں،اس لئے دوبارہ سے پوچھ رہاہوں، برائے مہربانی جواب ضرور دیں شکر یہ!
مفتی صاحب! میرا آپ سے سوال ہے ،میں الیکٹرانکس کمپنی ڈاؤلینس کا ڈیلر ہوں، مالی طور پر کمزور ہوں، اس لئے زیادہ تر ادھار پر مال لیتا ہوں ،اور بیچ کے کمپنی کے پیسے لوٹا دیتا ہوں، جس میں کام کے مند ہونے کی وجہ سے دیر سویر بھی ہو جاتی ہے، کمپنی اپنے ڈیلر ز کو دس سے پندرہ دن کے ادھار پر مال دیتی ہے، اور اس سے زیادہ دن گزر جانے پر فالو اپ (سود) لگاتی ہے۔ مجھے درجِ ذیل معاملات پر آپ کی رہنمائی چاہیئے ،اور برائے مہربانی جلد از جلد جواب مرحمت فرمائیں تاکہ اگر یہ سب حرام رزق کے زمرے میں آتا ہو تو اس سے بچنا جلد ممکن ہو سکے ؟
1:کمپنی اکثراوقات بغیر ڈیلر کی مرضی کے بھی مال انوائس کر دیتی ہے ،جو کہ ہمیں مجبوراً رکھنا پڑتا ہے، اور بعد میں اس پر سود بھی دینا پڑتا ہے ، اس حساب سے ہم کس حد تک گنہگار ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
2: اگر کمپنی سے نقد خريداری کی کوشش کر بھی لی جائے ،تو پھر بھی ادھار پر دھوکہ سے مال بھیج دیا جاتا ہے، جب سیلرز سٹاپ پر سیلز کا پریشر آ جاتا ہے، ایسی صورت میں کیا کمپنی ہی گنہگار ہوگی یاہم بھی قصور وار ہوں گے ؟
3:کمپنی اپنے ہر ڈیلر سے ایڈوانس میں فالو اپ کا ایگریمنٹ سائن کروا کر لیتی ہے، تو کیا ایسا ایگریمنٹ ہونے کے بعد اس کمپنی سے نقد کی خریداری کرنا جائز ہو گا ،جب کہ سود کے ایگریمنٹ پر بھی سائن ہو چکے ہیں، بھلے ادھار پر مال نہ بھی لیا جائے ؟
۴:باقی کی ایلیکٹرانکس کمپنیاں یہ کرتی ہے کہ ایک فریج کی قیمت تیس ہزار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک ہزار کاڈ سکاؤنٹ (جو کہ خریداری کےوقت ہی دے دیا جاتا ہے) دیتے ہیں، اور طے شدہ دنوں سے اوپر ہونے پر یہ ڈسکاؤنٹ واپس لے لیں گے۔ کیا یہ سود کے زمرے میں آئے گا یا نہیں ؟
ان سب معاملات کے بعد ہمارا یہ کام کرنا کیسا ہے ؟جب کہ ہم اس کو فوری طور پر چھوڑ بھی نہیں سکتے کیوں کہ پندرہ سال سے یہ کام کر رہے ہیں اور مارکیٹ میں بھی کافی پیسہ ہے جو کہ اس کاروبار کو چھوڑنے کی صورت میں ختم ہو جائے گا ؟ پلیز جواب جلد از جلد عنایت فرمائیں جزاک اللہ
مذکور طریقے سے معاملہ کرنا تو جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ ساتھی سے اس کے مطلوبہ مال کی تفصیل معلوم کرنے کے بعد دکاندار سے مال اپنے لئے خرید کر طے شدہ قیمت پر اپنے ساتھی پر فروخت کر دے ،اور اس کی شرعاً بھی گنجائش ہے۔
کمافي مشكاة المصابيح: وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني» . رواه مسلم (2/ 865)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1