محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم
میں گجرانوالہ گھکڑ (مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم العالیہ کا شہر) میں رہائش پذیر ہوں ، پنجاب یونیورسٹی میں میرا داخلہ ہوا ہے ، اور مجھے قصر نماز کے بارے میں معلوم کرنا ہے ، میں پڑھائی کے سلسلہ میں لاہور میں ہوں ، مجھے معلوم نہیں ہوتا ، کہ میں کتنے دن کے لۓ جا رہا ہوں لاہور ، مطلب مجھے یقینی طور پر پتہ نہیں ہوتا کہ میں کتنے دن لاہور میں قیام کروں گا ؟ ۱۵ دن سے کم یا زیادہ ، کبھی دس دن کا سوچ کر جاتا ہوں کہ دس دن کے بعد گھر کا چکر لگا کر آؤں گا ، لیکن زیادہ دن لگ جاتے ہیں ، براہِ کرم آپ میری نمازوں کے بارے میں بتائیں کہ میں لاہور میں پوری نماز پڑھوں یا قصر ؟
محترم داخلہ لینے کے بعد اگر آپ نے اپنا سامان وغیرہ وہیں رکھا ہو ، اور اس کے بعد ایک بار بھی پندرہ دن کی نیت کر کے ٹھہرے ہوں ،تو لاہور آپ کا وطنِ اقامت بن گیا ہے ، اس کے بعد جب تک آپ کا وہاں سامان وغیرہ ہاسٹل میں پڑا رہے اور آپ کا تعلیمی سلسلہ جاری رہے تو اس دوران آپ جتنے دن کے لۓ بھی جائیں گے ، تو حدودِ شہر میں داخل ہو کر آپ پر اتمام یعنی پوری نماز پڑھنا لازم ہے، جبکہ مذکور مدت کا قیام نہ کرنے کی صورت میں قصر نماز ہی لازم ہوگی ۔
فی الدر المختار : (من خرج من عمارة موضع إقامته) (إلی قوله) (مسيرة ثلاثة أيام و لياليها) صلی الرباعی رکعتین (إلی قوله) حتى يدخل موضع مقامه أو ينوي إقامة نصف شهر اھ
( ج2 ص 125/121)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله حتى يدخل موضع مقامه) أي الذي فارق بيوته سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء حاجة لأن مصره متعين للإقامة فلا يحتاج إلى نية ،جوهرة ، و دخل في موضع المقام ما ألحق به كالربض كما أفاده القهستاني اھ (2/ 124)۔
و فی البحر الرائق : وطن الإقامة مثاله قاهري خرج إلى بلبيس فنوى الإقامة بها نصف شهر ثم خرج منها ، و إن قصد مسيرة ثلاثة أيام و سافر بطل وطنه ببلبيس حتى لو مر به في العود لا يتم ، و إن لم يقصد ذلك ، و خرج إلى الصالحية ، فإن نوى الإقامة بها نصف شهر أتم بها و بطل وطنه ببلبيس حتى لو عاد إليه مسافرا لا يتم ، و إن لم ينو الإقامة بها لم يبطل وطنه ببلبيس حتى يتم إذا دخله و إن عاد إلى مصر بطل اھ (۲/ ۱۲۶)۔
و في مجمع النهر : (و) يبطل (وطن الإقامة) و هو البلدة أو القرية التي لبس للمسافر فيها أهل و نوى أن يقيم فيها خمسة عشر ا (بمثله) لأن الشيء يرتفص بمثله حتى لو نوى الإقامة في بلد ثم راح منه و اقام في بلد آخر و أتى البلد الأول قصر ما لم ينو الإقامة ثانيا (و السفر) أي يبطل وطن الإقامة به لأنه ضد الإقامة فلا يبقى معه حتى لو نوى الإقامة في بلد ثم سافر ثم ذلك البلد قصر ما لم ينوها اھ ( 164/1 )۔.
و فی الفتاوى الهندية : و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر ، كذا في الهداية . هذا إذا سار ثلاثة أيام أما إذا لم يسر ثلاثة أيام فعزم على الرجوع أو نوى الإقامة يصير مقيما اھ (1/ 139)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4