کیا برطانیہ سے قرض لے کر اس کو اپنے مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے؟ کیوں کہ وہ ہم سے ٹیکسوں کی بہت بڑی مقدار لیتے ہیں ۔ جبکہ ہمیں ان ٹیکسز کے عوض وہ سہولیات فراہم نہیں کرتے، میں برطانیہ میں طالب علم کی حیثیت سے آیا تھا اور برطانیہ کی حکومت نے اکثر کالج بند کر دئے۔ اور انھوں نے میری ساری رقم مجھ سے لے لی اور مجھ کو کوئی ڈگری بھی نہیں دی اور مجھے کہا ہے کہ آپ کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے لو ۔ جیسا کہ یہ ممالک مسلمانوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ اور اب یہ صورت بھی مسلم اور غیر مسلم کے درمیان جنگ کی صورت بن گئی ہے۔ انھوں نے تمام مسلم ممالک سے تیل زبردستی لے لیا ہے تو اسی صورت حال میں آپ ان ممالک سے قرض لینے کو درست خیال کرتے ہیں۔
بوقت مجبوری غیر سودی قرضہ لینے اور اسے خرچ کرنے میں تو شرعا حرج نہیں ، مگر اس کی واپسی شرعا و قانونا لازم ہے۔ اُن کے غلط طرز عمل کی بناء سائل کے لئے یہ قرض معاف نہیں ہو سکتا۔
فى مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من أخذ أموال الناس يريد أداءها أدى الله عنه ومن أخذ يريد إتلافها أتلفه الله عليه» . رواه البخاري اھ (2/ 879) واللہ اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1