مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ داؤد فیملی تکافل اور پاک قطر تکافل کے بارے میں کیا فتویٰ ہے ؟ کیا یہ جائز ہے یا نا جائز ؟ کیا یہ سو فیصد شریعت پر چل رہا ہے ؟ اور کیا ان اداروں میں ملازمت کر سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ پاک قطر فیملی تکافل کا طریقہ کار ربا، قمار، اور غرر سے پاک اور امداد باہمی و تعاون اور تبرع کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس میں وقف کا دخل ہو کر اجر و ثواب کا باعث بھی ہے، اس لئے اس کمپنی کی پالیسی لینے میں تو شرعاً بھی کوئی حرج نہیں، بلاشبہ جائز اور درست ہے، جبکہ داؤد فیملی تکافل کا پورا طریقہ کار ہمیں معلوم نہیں، اگر سائل کو معلوم ہو تو اس کی مکمل وضاحت کر کے اس کے متعلق حکم ِشرعی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1