السلام علیکم! میرا مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ،میں نے ایک اسلامی کتاب پڑھی تھی، جس میں لکھا تھا کہ اگر ناک میں خشک پیڑی رہ جائے، تو غسل جنابت ادھورا رہتا ہے، مجھ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ میں اب گھنٹوں غسل کرتا رہتا ہوں، اور وسوسوں کا شکار رہتا ہوں کہ ، شاید جسم کی فلاں جگہ خشک رہ گئی ہو، شاید فلاں جگہ وغیرہ وغیرہ، کبھی کبھی تو میں تین تین دن تک غسل جنابت ہی کرتا رہتا ہوں، اور سوچتا ہوں کہ میں ابھی بھی پاک نہیں ہوا، نیز یہ بھی کہ حالتِ جنابت میں میرا ہاتھ یا جسم کا کوئی بھی حصہ کسی جگہ یا چیز کو لگتا ہے، تو میں سوچتا ہوں کہ وہ چیز بھی ناپاک ہو گئی ہے، اور ان جگہوں اور چیزوں کو بھی دھوتا رہتا ہوں، جیسا کہ بستر، فرش، کار، موٹر سائیکل وغیرہ، کیا ان جگہوں اور چیزوں کو دھونا اور پاک کرنا لازم ہے؟ براہِ کرم میری راہ نمائی فرمائیں تاکہ ایک نارمل مسلمان کی طرح اپنی زندگی اسلامی طریقہ سے گزار سکوں۔
غسل کے فرائض تین ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ جسم میں بال کے برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہے، جب یہ تینوں فرض ادا ہو جائے تو غسل جنابت ادا ہوگیا ،اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بار بدن پر پانی ڈال کر پورے بدن پر ہاتھ پھیر دیا جائے، اور اس کے بعد دوبارہ مزید پانی بہایا جائے اس سے زائد پانی بہانا اسراف اور گناہ ہے، جبکہ ایسا کر لینے سے آدمی غسل جنابت سے نکل جاتا ہے ،اور اس کے بعد نماز،تلاوت وغیرہ تمام عبادات کی ادائیگی جائز ہو جاتی ہے۔
ففی الهدایة: وفرض الغسل المضمضة والإستنشاق وغسل سائر البدن اھ (۱/ ۲۹)
وفی الدر المختار: (البداءة بغسل يديه وفرجه) وإن لم يكن به خبث اتباعا للحديث (وخبث بدنه إن كان) عليه خبث لئلا يشيع (ثم يتوضأ) أطلقه فانصرف إلى الكامل، فلا يؤخر قدميه (إلی قوله) (ثم يفيض الماء) على كل بدنه ثلاثا مستوعبا من الماء المعهود في الشرع للوضوء والغسل (بادئا بمنكبه الأيمن ثم الأيسر ثم رأسه) على (بقية بدنه مع دلكه) ندبا، وقيل يثني بالرأس، وقيل يبدأ بالرأس وهو الأصح اھ(1/ 159،157) واللہ اعلم