محترم مفتی صاحب! السلام علیکم!
میری اہلیہ نمازِ فجر نہیں پڑھتی، اس لیے کہ ہمبستری کے فوراً بعد وہ غسل نہیں کر پاتی کہ ڈرتی ہے کہ بیمار نہ ہو جائے۔ یہاں شمالی امریکا میں سردیوں میں موسم زیادہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور میں خود کو قصوار سمجھتا ہوں کہ میری وجہ سے اس کی فرض نماز چھوٹتی ہے۔ براہِ کرم آپ ہماری رہبری فرمائیں کہ کیا وہ اس حال میں محض تیمم اور وضو کے ساتھ نماز ادا کر سکتی ہے؟ یا بہرحال غسل کرنا ہے؟ اپنے بالوں کو گیلا کیے بغیر غسل کرنا صحیح ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور عمل سے سائل اگرچہ گناہ گار نہیں ہوتا، مگر عورت کا محض سردی کو بنیاد بنا کر نماز چھوڑنا جائز نہیں اور اس کی بیوی کو چاہیے کہ وہ گھر میں گرم پانی کا انتظام کرے اور غسل کرنے کا اہتمام کریں، اس صورت میں تیمم یا صرف وضو کے ساتھ نماز ادا کرنا درست نہیں۔
ففی الفتاوى الهندية: ويجوز التيمم إذا خاف الجنب إذا اغتسل بالماء أن يقتله البرد أو يمرضه هذا إذا كان خارج المصر إجماعا فإن كان في المصر فكذا عند أبي حنيفة خلافا لهما والخلاف فيما إذا لم يجد ما يدخل به الحمام فإن وجد لم يجز إجماعا وفيما إذا لم يقدر على تسخين الماء فإن قدر لم يجز هكذا في السراج الوهاج (1/ 28) والله أعلم بالصواب!