میرا دوست ایک سرکاری ڈیپارٹمنٹ میں کنٹریکٹر ہے، وہ بسا اوقات دوستوں کو کچھ رقم انویسٹ کرنے کا کہتا ہے،منافع کی تقسیم کیلئے کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، اس کی بجا ئے وہ کہتا ہے کہ ایک لاکھ روپے کی انویسٹمنٹ پر وہ ایک لاکھ دس ہزار روپے واپس کرے گا ،ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ادائیگی کے بعد ان کنٹریکٹ پر اس کو نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے،میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسلامی نقطہ نظر سے یہ جائز ہے؟ اگر یہ درست نہیں ہے ،تو اس طریقہ پر رقم لینے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟
اگر انویسٹمنٹ کی صورت میں نفع کی مقدار پہلے سے متعین طور پر معلوم نہ ہو تو ایک لاکھ پردس ہزار کرنے کی بات کرنا درست نہیں، اس لیے انویسٹمنٹ کی صورت میں منافع فیصد کے اعتبار سے طے کرنا لازم ہے۔
كما في الهداية شرح البداية: المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر (إلى قوله) ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح اھ (3/ 202،202)۔ والله تعالی اعلم بالصواب!
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0