محترم جناب مفتی صاحب!
میں نے ایک کتاب جس کا نام ’’بخاری شریف کے ایک ہزار منتخب احادیث‘‘ ہے میں پڑھا کہ اگر ہم ناپاک ہوں یا غسل جنابت کی ضرورت ہو، رات ہی کو غسل کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وضو کر کے سو سکتے ہیں اور صبح اُٹھ کر غسل کر سکتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
جی ہاں! یہ صحیح ہے اور خود نبی کریمﷺ کے قول وعمل سے ثابت ہے۔
ففی صحيح البخاري: عن عبد الله، قال: استفتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: «نعم إذا توضأ»(1/ 65)
وفی فتح الملهم: قال ابن عبد البر ذهب الجمہور إلی انه للاستحباب (إلی قوله) وقال جمہور العلماء: المراد بالوضوء هنا الشرعی والحکمة فیه أنه یخفف الحدث ویؤیده ماراہ ابن ابی شیبة بسند رجاله ثقات عن شداد بن اوس الصحابی قال (إذا أجنب احدکم من اللیل ثم اراد ان ینام فالیتوضأ فإنه نصف غسل الجنابة اھ (۱/ ۵۱۸) والله أعلم بالصواب!