میں سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا ہوں، میں نے پراویڈنٹ فنڈ کا فتوی پڑھا، جناب ہمیں ادارے نے اختیار دیا ہوا ہے کہ اپنا ”جی، پی، ایف“ بلا سود کر سکتے ہیں، تو ریٹائرمنٹ کے وقت خالص رقم جس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہو ،مل سکتی ہے، جبکہ ”جی، پی ایف“ کی رقم جبری کاٹی جاتی ہے، لیکن دوسری طرف اختیار بھی دیا ہوا ہے بلا سود کا، جناب مفتی صاحب یہ بتائیں کہ یہ بلا سود جبری میں آتا ہے یا اختیاری میں ؟
مذکور ادارے کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ اسکیم میں شمولیت ضروری ہے ،تو یہ صورت جبری پراویڈنٹ فنڈ کی ہوئی، اور اس صورت میں ملازم کے لئے اس اسکیم سے انتفاع کی اجازت ہے، اور اس پر اضافی ملنے والی رقم سود کے زمرے میں نہیں آتی۔
ففی البحر الرائق؛ قوله ( بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1