احکام حج

عمرے کے بعد حرم سے باہر(جدّہ )جاکر حلق یا قصر کرنا

فتوی نمبر :
13515
| تاریخ :
2011-08-26
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

عمرے کے بعد حرم سے باہر(جدّہ )جاکر حلق یا قصر کرنا

مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میں جدّہ میں رہتا ہوں اور جب بھی عمرہ کرتے تھے مکہ میں حجام کی دوکان پر رش ہونے کی وجہ سے جدہ آکر بال بنوا لیتےیا استرا پھیر والیتے، پھر احرام کھول لیتے تھے ، ابھی پتا چلا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، بال حدودِ حرم میں ہی کٹوانے ہیں، تو جو میں نے عمرے کیے اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا کوئی دم یا کفارہ یا کیا احکامات ہیں؟کہ ہم بال تو بنواتے تھے لیکن میقات میں،حرم میں نہیں، جواب دےکر شکریہ کا موقع دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ سائل کے عمرے بلاشبہ درست ادا ہو چکے ہیں ،مگر افعال ِعمرہ ادا کرنے کے بعد سائل پر حدودِ حرم میں حلق یا قصر کرانا لازم تھا جو اس نے نہیں کیا ، اس لیے اس پر ہر عمرے کا دم (بکرا یا دنبہ )دینا لازم ہے ، اس لیے سائل کو چاہیے کہ وہ بذات ِخود یا کسی دوسرے شخص کے ذریعہ حدودِ حرم میں ہر عمرے کا دم ادا کروا دے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی غنیة الناسک : ويختص حلق الحاج بالزمان والمكان عند أبي حنيفة رضى الله تعالى عنه ، وحلق المعتمر بالمكان ، فالزمان أيام النحر الثلاثة، والمكان الحرم، والتخصيص للتضمين، لا للتحلل، فلو حلق أو اقتصر فى غير ما توقت به لزمه الدم، ولكن يحصل به التحلل في أي مكان وزمان أتى به بعد دخول وقته، اھ (94)۔
و فی الہدایۃ : وإن حلق في أيام النحر في غير الحرم فعليه دم ومن اعتمر فخرج من الحرم وقصر فعليه دم عند أبي حنيفة ومحمد " رحمهما الله تعالى " اھ (1/164)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 13515کی تصدیق کریں
0     359
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات