میں ایک انڈین خاتون ہوں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے ایک کمپنی میں انٹرویو دیا ہے ،ان کی طرف سے تا حال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ والدین کے کہنے پر ایک کالج میں انٹرویو دیا۔ تو وہاں میں لیکچرار کی حیثیت سے منتخب ہو گئی، اور انجینئرنگ سے متعلقہ مضامین پر لیکچر دینا ہوتا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس کلاس کو میں پڑھاتی ہوں ،وہ تمام لڑکے ہیں ، اگر چہ اکثر مسلمان ہیں اور اکثر طلباء غریب بھی ہیں، جبکہ میرا اور دیگر مسلمان اساتذہ کا مقصد اپنی مسلمان قوم کو آگے بڑھانا ہے، میں مکمل حجاب میں رہتی ہوں ، لیکن پڑھاتے وقت چہرہ کھول دیتی ہوں کہ: اس کے بغیر پڑھانا ممکن نہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ میرا اس طرح لڑکوں کو پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟ مجھے یہ ملازمت جاری رکھنی چاہیے یا نہیں ؟ اس بارے میں بہت ہی پریشان ہوں کہ: اگر ملازمت چھوڑدوں تو میری وجہ سے والدین کو لوگوں کی باتیں سننا پڑھیں گی کہ: اچانک اس نے ملازمت کیوں چھوڑ دی، اور میں یہ نہیں چاہتی کہ: میری وجہ سے ان کو یہ تکلیف پہنچے، یہ سوچ سوچ کر مجھے رات کو نیند بھی نہیں آئی۔ برائے مہربانی آپ رہنمائی فرمائیں کہ: مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ جبکہ جو مضمون میں پڑھاتی ہوں، اس سے پہلے ان کے پاس اس کا کوئی ٹیچر بھی نہ تھا ۔
مذکور طریقہ سے بے حجابانہ پڑھانا اور غیر محرم بالغ طلبہ کے ساتھ اختلاط جائز نہیں،البتہ پردہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر لڑکوں کو بھی پڑھایا جائے تو بامر مجبوری اس کی گنجائش ہے، بشر طیکہ آمدو رفت کا راستہ بھی مامون ہو۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0