محترم جناب! میں فارس ٹریڈنگ کا روبار میں دلچسپی لیتا ہوں، جیسا کہ اسٹاک ایکسچینج ۔ مسئلہ یہ ہے کہ لوگ جن اشیاء و مال وغیرہ کی تجارت کرتے ہیں ان کو واقعئے اپنی تحویل میں نہیں لیتے، بلکہ ملکیت کے بغیر ہی لوگ مختلف قیمتوں پر خرید و فروخت کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کبھی نقصان اٹھاتے ہیں اور کبھی نفع کماتے ہیں، اسلام کی روشنی میں مجھے آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ کیا اس قسم کا کاروبار اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟
مذکور کاروبار ربا و قمار کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کاروبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے جو شرعاً جائز نہیں ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروبار درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان پر قبضہ کر کے آگے بیچے تو بلاشبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا، مگر اس کاروبار میں عموماً ایسے ہوتا نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام أن يباع حتى يقبض . قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله اھ( متفق عليه) (2/ 141)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1