السلام علیکم! میں لندن میں رہائش پزیر ہوں، اور میرا سوال یہ ہے کہ کیا حلال مورگیج (مکان کیلئے قرض لینا) رہائش کیلئے لینا جائز ہے؟ کیونکہ میں ابھی کرایہ کے مکان میں رہ رہا ہوں، کرایہ کے مکان میں مجھے رہنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ اگر اسلام میں حلال مور گیج لینا جائز ہے، تو میرے لیے بہتر ہوگا، نیز مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ حلال مورگیج کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟ کسی نے کہا کہ گھر کا مالک بینک ہوتا ہے، اور گاہک کرایہ ادا کرتا ہے ،پھر آخر میں کرائے کی تمام قسطیں ادا کرنے کے بعد گاہگ گھر کا مالک بن جاتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک ہی عقد میں دو معاہدے ہو گئے جو کہ اسلام میں جائز نہیں ہے، تمام حلال مورگیجز تقریبا دوسرے مورگیجز کی طرح نفع کماتے ہیں ،تو یہ کرایہ کی اصطلاح سود کے چھپانے کی ایک شکل نہیں ہے، نیز اگر پراپرٹی کا نقصان ہو گیا تو گاہک مرمت کے اخراجات برداشت کرے گا، لہذا اگر بینک مکان کا مالک ہے تو بینک کیوں نہیں برداشت کرتا، وہ بینک جو عام طور پر حلال مورگیج فراہم کرتے ہیں، دیگر سودی مورگیج کیساتھ بھی معاملہ کرتے ہیں، تو کیا میں بھی انہی کی کشتی پر ہوں گا، کیونکہ میں بھی ایک ایسے نفع والے بینک کی ساتھ معاہدہ کر رہا ہوں گا؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ میں ایسے شخص کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کر رہا ہوں گا جو سود کے گناہ کا مرتکب ہو گا ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
مارگیج کے ذریعہ ، حصول مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے، اور اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی شخص اداره یا بینک و غیره مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرے ،اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بھیج دے ،اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی ،اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں، اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہے اور ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے۔
كما قال الله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد فمن زاد أو استزاد فقد أربى الآخذ والمعطي فيه سواء " . رواه مسلم (2/ 135)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) (إلی قوله) ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد، وكان له أخذ الكل جملة اھ (4/ 531)۔ والله اعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1