السلام علیکم ! میری والدہ میرے والد محترم کی وفات کے بعد عرصہ دراز سے میرے پاس مقیم ہے ۔ میرے تین بھائی مجھ سمیت اور سات بہنیں ہیں ، میرا ایک بھائی مجھ سے بڑا ہے۔ اور دوسرا مجھ سے چھوٹا ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی والدہ کو اپنے ساتھ نہیں رکھتا۔ لیکن میری والدہ کوان دونوں سے بہت محبت ہے۔ اور ان کی اولاد سے بھی۔ میرے چار بچے ہیں۔ ان میں سے ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں ،بیٹی بالغ ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ روز میری والدہ کا کسی بھی چھوٹی چھوٹی بات پر میری بیوی سے جھگڑا ہوتا ہے، میری بیوی میرے منع کرنے کی وجہ سے کوئی جواب نہیں دیتی۔ اور چپ کر کے سب سن لیتی ہے۔ مگر اب میری والدہ نے میرے بچوں کو بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ میرے کمرے میں نہ آئے ، گھر میں نہ کھیلے وغیرہ، لیکن جب میرے بھائی کے بچے میرے گھر پر آتے ہیں تو چاہے وہ پورا گھر آسمان پر اُٹھا دیں، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، میں کرایہ کے گھر میں رہتا ہوں، ایک بات اور ہے ۔میں نے عرصہ دراز سے اپنی والدہ کا خرچہ بندھا ہوا ہے، جو میں پابندی سے ان کو دیتا ہوں ۔ مگر وہ میری بہنوں سے کہتی ہے کہ (کیونکہ وہ میرے بچوں کو سکول چھوڑنے صبح جاتی ہے)، جو کہ گھر کے بالکل قریب ہے۔ اس کا معاوضہ دیتا ہے، میں شرم سار ہو جاتا ہوں ۔ مگر میں ان نے سے کبھی ذکرنہیں کیا کہ مجھے پتہ ہے کہ وہ میرے بارے میں کیا کہتی ہے میری بہنوں سے۔ آپ سے درخواست ہے کہ مجھے بتائیں کہ کیا میں اپنی والدہ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے بڑے بھائی کے گھر شفٹ ہو جائیں۔ میں ان کا خرچہ بھی دیتا رہوں گا اور ان سے ملتا بھی رہوں گا۔ ایسے کہنے پر گناہ گار تو نہیں ہوگا۔ اور اگر گناہ گار ہونگا تو میں کیا کروں؟ کیسے اپنی زندگی گزاروں؟
روز ایک نیا مسئلہ گھر میں ہوتا ہے اور مجبوراً مجھے اپنی بیوی کو ڈانٹنا پڑتا ہے۔ کیا بیوی کے حقوق نہیں ہے؟کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں، میں نے کئی بار اپنی والدہ کو الگ سے پیارسے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ مگر وہ رونے لگتی ہے کہ میں اپنی بیوی کا سائیڈ لے رہا ہوں، میں ڈر کے مارے ان کے قدموں میں گر جاتا ہوں کہ معاف کر دو آئندہ نہیں سمجھاؤنگا ،کیا کرو ں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کوئی راستہ دکھائیں مہربانی ہوگی۔ والسلام
سائل کا اپنی والدہ سے یہ کہنا تو درست نہیں کہ وہ اپنے بڑے بیٹے کے گھر چلی جائے ۔ یہ والدہ کو اپنے گھر سے نکالنے کے مترادف ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ گھر میں اگر دو یا تین کمرے ہوں تو والدہ کے لیے ایک کمرہ مختص کر کے ان کی ضرورت کی چزیں کھانا وغیرہ وہاں دیدیا جائے ۔ اور ان کے کمرے اور چیزوں سے دوسرے کسی کا تعلق نہ رہے تو روز روز کا جھگڑا بھی نہ ہوگا ۔ جبکہ سائل کو بھی چاہیے کہ ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھے اور اگر کوئی بات ناگوار گزرے تو والدہ ہونے کے ناطے اللہ کے لیے برداشت کرلے تو اس پر اُسے اجر بھی ملے گا تاہم وہ خود بڑے بیٹے کے ہاں جانا چاہے تو انہیں جانے دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
كما في قوله تعالى : {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا } [الإسراء: 23، 24]
و في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رجل: يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي؟ قال: «أمك» . قال: ثم من؟ قال: «أمك» . قال: ثم من؟ قال «أمك» . قال: ثم من؟ قال: «أبوك» . و في رواية قال: «أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك أدناك» . متفق عليه اھ (3/ 1376)
وفيها ايضا: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رغم أنفه رغم أنفه رغم أنفه» . قيل: من يا رسول الله؟ قال: «من أدرك والديه عند الكبر أحدهما أو كلاهما ثم لم يدخل الجنة» . وراه مسلم اھ (3/ 1376)
وفيها ايضا: وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا. ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا» قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: «وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه» اھ (3/ 1382)