میں مشترکہ خاندان میں رہتا ہوں، شادی شدہ بھائی اور بہن بھی میرے ساتھ رہتے ہیں، مگر ان کا حصہ الگ ہے، میری والدہ میرے ساتھ ہیں وہ بیمار ہیں اس لیے چاہتی ہیں کہ ہم دن رات ہر وقت، بیڈروم کا دروازہ کھول کر سوئیں میری بیوی کو اس پر اعتراض ہے وہ کہتی ہے کہ میری والدہ بہن یا بھائی کے ساتھ رہے ان کی اولادیں جوان ہیں وہ دیکھ بال کرلیں، بہن اور بھائی بھی امی کو رکھنے کے لیے تیار ہیں، یہ بتائیں کہ شرعی لحاظ سے میری بیوی کا مطالبہ ٹھیک ہے یا نہیں؟
جب والدہ بیمار ہیں اور انہیں ایسے خدمتگار کی ضرورت ہے جو ہر وقت ان کا خیال رکھے اور اسی وجہ سے وہ آپ لوگوں کو دروازہ کھلا رکھنے کا بھی بولتی ہیں،ا ور پھر دوسرے بہن بھائی اسے ساتھ رکھنے پر آمادہ ہیں، اور ان کی اولادیں بھی جوان ہیں، تو اس صورت میں والدہ کے ان کے ساتھ رہنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں اس لیے سبب اعتراض اور ناراضگی قرار دینا درست نہیں، اس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الدرالمختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) الخ (3/599)۔
وفی ردالمحتار تحت (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. الخ (3/600)۔