السلام علیکم ! میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر کوئی عورت پورا حجاب پہنتی ہے اور کسی غیر آدمی سے بات نہیں کرتی اور چہرے کا پردہ نہیں کرتی اور غیر ضروری باہر بھی نہیں جاتی تو ایسے میں چہرے کا پردہ ضروری ہے کہ نہیں؟ جبکہ اسلام میں کسی سے بھی زبردستی کا حکم نہیں، اگر کوئی اپنی مرضی سے کرے تو زیادہ اچھا ہے بجائے اس کے کہ اُسے زبردستی کہا جائے۔ شکریہ!
صورت مسئولہ میں بھی مذکور خاتون پر غیر محارم کے سامنے چہرہ ڈھانکنا لازم ہے، جبکہ دین میں زبردستی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام لانے پر زبردستی کسی کو مجبور نہیں کیا جائےگا، البتہ اسلام قبول کرنے کے بعد شریعت کے تمام احکامات کو بجا لانا ضروری ہوتا ہے اور والدین وغیرہ سر پرست اس سلسلہ میں سختی بھی کر سکتے ہیں۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي روي عن الضحاك والسدي وسليمان بن موسى أنه منسوخ بقوله تعالى يا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين وقوله تعالى فاقتلوا المشركين (إلى قوله) وقيل إنها نزلت في بعض أبناء الأنصار كانوا يهودا فأراد آباؤهم إكراههم على الإسلام وروي ذلك عن ابن عباس وسعيد بن جبير وقيل فيه أي لا تقولوا لمن أسلم بعد حرب إنه أسلم مكرها لأنه إذا رضي وصح إسلامه فليس بمكره اھ (2/ 168)
و في الدر المختار: (و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة (إلى قوله) (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره اھ (6/ 370)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة اھ (6/ 370)