میں ایک مَنی ایکس چینج والے کے ساتھ کام کرتا ہوں، میرا سیٹھ غیر ملکی کرنسی قرض پر خریدتا ہے، اور قرض پر بیچتا ہے، اس میں بازار کے نرخ سے فرق ہوتا ہے (نقد پر ایک ریٹ ہوتا ہے اور قرض پر دوسرا) کیا یہ کاروبار صحیح ہے اور میرے لیے میری تنخواہ کیسی ہے؟
واضح ہو کہ مختلف ممالک کی کرنسیاں مختلف الاجناس شمار ہوتی ہیں، اور مختلف الاجناس اشیاء کی خرید وفروخت میں کمی بیشی تو جائز ہے، مگر ادھار یعنی عقد کے وقت کسی بھی کرنسی کی ادائیگی نہ ہو یہ جائز نہیں، لہٰذا اگر سائل کا سیٹھ غیر ملکی کرنسی کی خرید وفروخت اس طرح کرتا ہو کہ عقد کے وقت کوئی ایک کرنسی دے دی جاتی ہو، اور عقد کے وقت ہی اس کی قیمت طے کر دی جاتی ہو، اور یہ کہ معاملہ کا نقد کرنا یا ادھار کرنا بھی طے ہو جاتا ہو تو ان شرائط کی پابندی کے ساتھ مذکور معاملہ شرعاً بھی جائز ہو جائےگا، اور سائل کے لیے اس کی تنخواہ بھی حلال ہو گی وگر نہ نہیں، اس سے احتراز لازم ہوگا۔
ففی الھدایة: وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنی المضموم إلیه حل التفاضل والنساء (إلی قوله) وإذا وجد أحدھما وعدم الأخر حل التفاضل وحرم النساء اھ (۳/ ۷۹) واللہ أعلم!
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0