کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیانِ کرام (1) کیا قربانی کی کھال کو مسجد میں رکھا جاسکتا ہے ؟ جہاں 5 وقت کی نماز ہوتی ہے۔
2: جس چٹائی پر کھال رکھی تھی، اس پر بیٹھ کر مسجد میں کھانا وغیرہ کھایا جاسکتا ہے؟
3: جن کپڑوں پر کھال کا ناپاک خون اور گوبر لگا ہو ان کپڑوں میں نماز ہوتی ہے؟ ان ناپاک کپڑوں سمیت مسجد میں کھانا کھایا جاسکتا ہے؟
واضح ہوکہ مسجد اللہ تعالی کا گھر اور روئے زمین پر مقدس مقام ہوتا ہے، جس کے احترام اور اسے پاک اور صاف رکھنے کا حکم دیا گیاہے، ایک حدیث شریف میں یہاں تک آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نےبدبودار چیز کھانے کے بعد مسجد میں داخلہ سے بھی منع فرمایا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مسجد میں بدبودار چٹائی اور کھال رکھنا ، یا کوئی بھی ایسی چیز مسجد میں لانا جو گندگی یا بدبو پھلائے شرعاًً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے۔
جہاں تک کپڑوں پر گوبر اور کھال کے خون کی صورت میں نماز کے حکم کا سوال ہے تو چونکہ گوبر نجاست غلیظہ ہے اور خون اگر جانور کے ذبح کے وقت نکلنے والا خون ہو تو وہ بھی نجس ہے، لہذا بدن یا کپڑوں پر لگی ہوئی اس نجاست یا خون کے ساتھ نماز ادا کرنا شرعاً درست نہیں بلکہ پاک اور صاف کپڑے پہن کر نماز ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر: ( و)کرہ تحریماً ( الوطء فوقہ و البول و التغوط) لأنہ مسجد الی عنان السماء ( و إتخاذہ طریقاً بغیر عذر) و صرح فی القنیۃ بفسقہ باعتیادہ(وإدخال نجاسۃ فیہ)وعلیہ الخ
و فی الشامیۃ تحت (قولہ وإدخال نجاسۃ فیہ)عبارۃ الأشباہ: وإدخال نجاسۃ فیہ یخاف منھا التلویث ومفادہ الجواز لو جافۃ لکن فی الفتاوی الھندیۃ لا یدخل المسجد من علی بدنہ نجاسۃ الخ( مطلب فی أحکام المسجد، ج: 1، ص: 656،ط: سعید)۔
و فی الدر: (و عفا) الشارع (عن قدر درھم) وإن کرہ تحریماً فیجب غسلہ (الی قولہ)( ودم مسفوح من سائر الحیوانات الا دم شھید مادام علیہ و مابقی فی لحم مھزول (الی قولہ) (و دجاج ) أما مایذرق فیہ فإن مأکولا فطاھر و إلا فمخفف (و روث وخثی) أفاد بھما نجاسۃ خرء کل حیوان غیر الطیور و قالا مخففۃ الخ(باب الإنجاس، ج: 1، ص: 316تا 320، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وكذلك الخمر و الدم المسفوح و لحم الميتة و بول ما لا يؤكل و الروث و أخثاء البقر و العذرة و نجو الكلب و خرء الدجاج و البط و الإوز نجس نجاسة غليظة هكذا في فتاوى قاضي خان و كذا خرء السباع و السنور و الفأرة ، هكذا في السراج الوهاج(إلی قولہ) (و الثاني المخففة) و عفي منها ما دون ربع الثوب ، كذا في أكثر المتون (الیٰ قوله) و بول ما يؤكل لحمه و الفرس و خرء طير لايؤكل مخفف هكذا في الكنز الخ (الفصل الثانی فی الاعیان النجاسۃ، ج:1، ص: 46، ط: ماجدیہ)