رضاعت

دو جڑواں بچوں میں رضاعت کے شک کی صورت میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
98295
| تاریخ :
2026-08-09
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / رضاعت

دو جڑواں بچوں میں رضاعت کے شک کی صورت میں نکاح کا حکم

السلام علیکم
میرے دو کزن جڑواں پیدا ہوئے تھے۔ جب وہ 6 ماہ کے ہوئے تو میری دادی نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنا دودھ پلایا۔ اس وقت دادی کے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے (میرے چچا) کی عمر 2 سال تھی، یعنی دادی کو دودھ آنے کا امکان تھا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ دادی کو کامل یقین ہے کہ انہوں نے ان دونوں جڑواں بچوں میں سے کسی ایک کو دودھ پلایا ہے، لیکن وہ اب نام بھول چکی ہیں کہ وہ بڑا کزن تھا یا چھوٹا۔ خاندان میں بھی کوئی دوسرا گواہ موجود نہیں ہے۔ البتہ میری والدہ کو شک/شاید کے ساتھ یاد ہے کہ چھوٹا کزن کمزور تھا تو دادی نے اسے پستان لگایا تھا اور بڑا کزن فیڈر پیتا تھا۔اب ان دونوں جڑواں بھائیوں میں سے چھوٹے بھائی کا رشتہ دادی کے خاندان میں (چچا/پھوپھی کی بیٹی سے) طے ہو رہا تھا، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں ۔ میں اور میرا بڑا والا کزن بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ شرعی حکم ارشاد فرما دیں کہ کیا دادی کے اس یقین اور والدہ کے شک کی وجہ سے یہ رشتہ حرام ہو جائے گا یا نکاح جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی یا کسی کا اپنی رضاعت کے بارے میں اصرار کے ساتھ اقرار کا ہونا ضروری ہے۔ نیز کسی بھی طرح کا شک بھی حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لئے شرعاً مانع ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اولاً سائلہ کے مذکور دونوں کزن میں سے ہر ایک کی رضاعت مشکوک ہے، کیوں کہ سائلہ کی دادی کو شک ہے کہ دونوں میں سے کس کو انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ ثانیاً بقول سائلہ ، دادی اور اس کی ماں کے علاوہ کوئی اور گواہ بھی نہیں، جب کہ سائلہ کی دادی اور ماں کی باتوں میں شک کا عنصر بھی ہے۔اس لئے ان وجوہات کی بنا پر سائلہ کے چھوٹے کزن کا اپنے کسی چچا، پھوپھی کی لڑکی سے اور بڑے کزن کا سائلہ سے نکاح کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر اس کے علاوکسی اور جگہ رشتوں کا اہتمام کیا جائے تو یہ بہتر رہے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنها حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشهادة بطلاقها) الخ
و فی الرد تحت (قوله: حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله: وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعًا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قيله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الدفع. الخ (کتاب النکاح باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴ ط: سعید باکستان)۔
و فی البحر الرائق: (قوله: ويثبت بما يثبت به المال) وهو شهادة رجلين عدلين أو رجل وامرأتين عدول لأن ثبوت الحرمة لا يقبل الفصل عن زوال الملك في باب النكاح وإبطال الملك لا يثبت إلا بشهادة رجلين ... أفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد رجلًا أو امرأةً وهو بإطلاقه يتناول الإخبار قبل العقد وبعده وبه صرح في الكافي، والنهاية. الخ(کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۳۲ ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية الخ
(قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. الخ (کتاب النکاح باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۲ ط: سعید باکستان)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98295کی تصدیق کریں
0     23
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • عورت نے شیرخوار بچے کے منہ میں پستان دیا پھر اس کا کہنا کہ بچے نے دودھ نہیں پیا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بچی کا بڑی عمر کی عورت کی چھاتی منہ میں لینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • مدت رضاعت کے بعد دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   رضاعت 0
  • رضاعی بھائی سے کروائے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بیٹے کی بہن سے اپنے بیٹے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نیت اور قصد کے بغیر دودھ منہ میں جانے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • پانچ مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کے ثبوت والی حدیث کا جواب

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بھانجی کو دودھ پلانے کے بعد اپنے کسی بھی بیٹے سے اس کا نکاح کرانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس لڑکے کے بھائیوں نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو اس کی بیٹی سے مذکور لڑکے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس عورت کا دودھ پیا ہو اسکی بیٹی سے شادی کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • کیا چمچہ وغیرہ کے ذریعے دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعت کے متعلق شک کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دو عورتوں کی گواہی سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • چودہ سال کی بچی کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • شک کی بناء پر حرمت رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • ایک مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • کیا ممانی کا دودھ پینے کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لے پالک بیٹے کو محرم بنانے کیلئے اپنی بھانجی کا دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نکاح کے متعلق مسائل- مدتِ رضاعت کے بعد بچے کو دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لےپالک بچی کو بھتیجی سے دودھ پلواکر محرم بنانے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دادی کا دودھ پینے کے بعد پھوپھو کی بیٹی سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات