السلام علیکم
میرے دو کزن جڑواں پیدا ہوئے تھے۔ جب وہ 6 ماہ کے ہوئے تو میری دادی نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنا دودھ پلایا۔ اس وقت دادی کے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے (میرے چچا) کی عمر 2 سال تھی، یعنی دادی کو دودھ آنے کا امکان تھا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ دادی کو کامل یقین ہے کہ انہوں نے ان دونوں جڑواں بچوں میں سے کسی ایک کو دودھ پلایا ہے، لیکن وہ اب نام بھول چکی ہیں کہ وہ بڑا کزن تھا یا چھوٹا۔ خاندان میں بھی کوئی دوسرا گواہ موجود نہیں ہے۔ البتہ میری والدہ کو شک/شاید کے ساتھ یاد ہے کہ چھوٹا کزن کمزور تھا تو دادی نے اسے پستان لگایا تھا اور بڑا کزن فیڈر پیتا تھا۔اب ان دونوں جڑواں بھائیوں میں سے چھوٹے بھائی کا رشتہ دادی کے خاندان میں (چچا/پھوپھی کی بیٹی سے) طے ہو رہا تھا، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں ۔ میں اور میرا بڑا والا کزن بھی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ شرعی حکم ارشاد فرما دیں کہ کیا دادی کے اس یقین اور والدہ کے شک کی وجہ سے یہ رشتہ حرام ہو جائے گا یا نکاح جائز ہے؟
واضح رہے کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی یا کسی کا اپنی رضاعت کے بارے میں اصرار کے ساتھ اقرار کا ہونا ضروری ہے۔ نیز کسی بھی طرح کا شک بھی حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لئے شرعاً مانع ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اولاً سائلہ کے مذکور دونوں کزن میں سے ہر ایک کی رضاعت مشکوک ہے، کیوں کہ سائلہ کی دادی کو شک ہے کہ دونوں میں سے کس کو انہوں نے دودھ پلایا ہے۔ ثانیاً بقول سائلہ ، دادی اور اس کی ماں کے علاوہ کوئی اور گواہ بھی نہیں، جب کہ سائلہ کی دادی اور ماں کی باتوں میں شک کا عنصر بھی ہے۔اس لئے ان وجوہات کی بنا پر سائلہ کے چھوٹے کزن کا اپنے کسی چچا، پھوپھی کی لڑکی سے اور بڑے کزن کا سائلہ سے نکاح کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر اس کے علاوکسی اور جگہ رشتوں کا اہتمام کیا جائے تو یہ بہتر رہے گا۔
کما فی الدر المختار: (و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان، لكن لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي لتضمنها حق العبد (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنها حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشهادة بطلاقها) الخ
و فی الرد تحت (قوله: حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله: وهي شهادة عدلين إلخ) أي من الرجال. وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعًا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قيله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الدفع. الخ (کتاب النکاح باب الرضاع ج:۳ ص:۲۲۴ ط: سعید باکستان)۔
و فی البحر الرائق: (قوله: ويثبت بما يثبت به المال) وهو شهادة رجلين عدلين أو رجل وامرأتين عدول لأن ثبوت الحرمة لا يقبل الفصل عن زوال الملك في باب النكاح وإبطال الملك لا يثبت إلا بشهادة رجلين ... أفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد رجلًا أو امرأةً وهو بإطلاقه يتناول الإخبار قبل العقد وبعده وبه صرح في الكافي، والنهاية. الخ(کتاب الرضاع ج:۳ ص:۲۳۲ ط: سعید)۔
و فی الدر المختار: (ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية الخ
(قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. الخ (کتاب النکاح باب الرضاع ج:۳ ص:۲۱۲ ط: سعید باکستان)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0