کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں اگر ایک ، دو ، یا چار افراد مل کر بچھیا یا گائے کی قربانی کرتے ہیں، اور ہر ایک کی برا بر رقم اور حصہ قربانی کے جانور میں ہیں، لیکن اگر تین بندے ہیں اور تینوں نے برابر برابر رقم سے گائے خریدی ہے، تو گائے کے کتنے حصے ہوں گے، میری رائے یہ ہے اگر تین بندوں نے قربانی کی ہے اور قربانی کے جانور کے پیسے برابر ہیں تو قربانی کے جانور کےگوشت کے تین حصے ہوں گے، سات حصے نہیں ہوگے ، براہِ کرم حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔
واضح ہوکہ گائے، بھینس یا اونٹ کی قربانی میں شریعتِ مطہرہ نے زیادہ سے زیادہ سات افراد تک شرکت کی اجازت دی ہے، لہٰذا اگر ایک، دو، تین یا چار افراد برابر برابر رقم ملا کر قربانی کریں تو قربانی درست ہے، بشرطیکہ ہر شریک کی نیت قربانی یا کسی عبادت کی ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر تین افراد نے برابر رقم ملا کر ایک گائے خریدی ہے اور تینوں اس میں برابر کے شریک ہیں تو شرعاً گائے کے گوشت کی تین حصوں میں تقسیم درست ہے، سات حصے کرنالازم نہیں ، کیونکہ سات حصہ ہونا صرف زیادہ سے زیادہ شرکت کی حد ہے، ضروری نہیں کہ ہر گائے کو سات ہی حصوں میں تقسیم کیا جائے۔
لہٰذا تین شریک ہوں تو تین حصے، چار شریک ہوں تو چار حصے، اور دو شریک ہوں تو دو حصے ہوسکتے ہیں، البتہ کسی ایک شریک کا حصہ شرعاً ساتویں حصے سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
كما في البدائع: "و لا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء. وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولا يجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة»۔ وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة»، من غير فصل بين أهل بيت وبيتين؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لا يتجزأ ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي ؛ للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه ؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو ،بيتين فكذا البقرة ... ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع، ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم ؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا ببقرة واحدة أجزأهم فالأكثر أولى، ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرة أو أكثر فهو على هذا(کتاب التضحیۃ، فصل فی محل اقامۃ الواجب فی الاضحیۃ، ج: ٥، ص: ٧٠، مط: سعيد)