السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ! میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور مجھے جو ماہ تنخواہ ملتی ہے وہ مجھ پر اورمیرے بیوی بچوں پر خرچ ہو جاتی ہے اور اس میں سے اتنی بچت نہیں ہوتی کہ جس کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر پہنچتا ہو،اور میری بیوی کے پاس چھ تولہ سونا ہے، جو میری بیوی کی ملکیت ہے۔کیا اس ساری صورت حال میں قربانی واجب ہوگی؟ اور اگر واجب ہوتی ہے تو مجھ پر ہوگی یا میری بیوی پر ہوگی؟ جزاک اللہ!
صورت ِ مسئولہ میں سائل کی ملکیت میں اگر ساڑھے باون تولہ چاندی ، یااس کی مالیت کے بقدر نقدی ، مال تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہوں، تو اس پر شرعاً قربانی کی ادائیگی لازم نہیں ، البتہ سائل کی بیوی سے متعلق حکم کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ایام قربانی میں اس کی ملکیت میں اس چھ تولہ سونے کے علاوہ روز مرہ اخراجات سے زائد کوئی بھی رقم (خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو) موجود نہ ہو، اور نہ ہی ضرورت سے زائد سامان ہو تو اس پر بھی قربانی کرنا شرعا واجب نہ ہوگی ، لیکن اگر اس کی ملکیت میں نقدی بھی موجود ہو ،تو فی زماننا ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی سے چونکہ زائد ہے ، اس لیے ایسی صورت میں اس پر قربانی کرنا لاز م ہوگی ، لیکن ہمارے معاشرے میں عموما ً خواتین خانگی امور میں مصروف رہتی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے پاس قربانی کی ادائیگی کے لیے رقم موجود نہیں ہوتی ، اس لیے شوہر کو چاہیئے کہ وہ اس کی جانب سے قر بانی کی ادائیگی کی کوشش کرے ، یہ اس کی جانب سے بیوی کے ساتھ تبرع و احسان اور باہم محبت کا ذریعہ بھی ہوگا۔
کما فی الفتاوی الھندیة: (وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة اھ (كتاب الأضحية ج: 5 ص: 291 ناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )
وفی بدائع الصنائع: فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لما كتب كتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذكر فيه الفضة ليس فيها صدقة حتى تبلغ مائتي درهم فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم (الی قوله) والشرع أوجب باسم الدراهم وإن كان الغالب هو الغش والفضة فيها مغلوبة، فإن كانت أثمانا رائجة أو كان يمسكها للتجارة يعتبر قيمتها فإن بلغت قيمتها مائتي درهم من أدنى الدراهم التي تجب فيها الزكاة وهي التي الغالب عليها الفضة تجب فيها الزكاة وإلا فلا اھ (فصل فی نصاب الزکوۃ ج: 2 ص: 16 ناشر: دار الكتب العلمية وغيرها)
وفیه ایضا: وهذا الذي ذكرنا كله من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل من النصاب فأما إذا كان كل واحد منهما نصابا تاما ولم يكن زائدا عليه لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد منهما زكاته.ولو ضم أحدهما إلى الآخر حتى يؤدى كله من الفضة أو من الذهب فلا بأس به عندنا ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا فيؤدى من كل واحد منهما ربع عشره اھ(فصل فی نصاب الزکوۃ ج: 2 ص: 20 ناشر: دار الكتب العلمية وغيرها