عید کے موقع پر میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے بیرونِ ملک جا رہا ہوں۔ میں صرف ایک ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، اس لیے میں مسافر شمار ہوں گا۔ قربانی کے وجوب کی ایک شرط یہ ہے کہ آدمی مقیم ہو۔ میں وہاں ایک جانور ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ میں کس نیت سے قربانی کروں؟ کیا یہ نفل شمار ہوگی؟ اگر یہ نفل ہے تو کیا میں اپنی طرف سے کرنے کے بجائے اس کا ایصالِ ثواب کسی اور کو کر سکتا ہوں؟ یا پھر اگر میں مسافر ہونے کے باوجود جانور خرید لوں تو کیا قربانی مجھ پر واجب ہو جائے گی؟
قربانی کے وجوب کے لیے مقیم ہونا شرط ہے، مسافر اگرچہ صاحبِ نصاب ہو ،اس پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔صورت مسئولہ میں سائل اگر ایام قربانی میں دوران ِسفر جانور ذبح کرے ، تو یہ قربانی نفل شمار ہوگی۔جبکہ نفل قربانی میں آدمی کو خود اپنی طرف سے یا والدین، مرحومین یا کسی دوسرے مسلمان کی طرف سےبھی ایصال ثواب کی نیت سےقربانی کرنے کااختیارہوتاہے۔چنانچہ سائل اگراپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے کسی دوسرے شخص کو ثواب پہنچانے کی نیت سے قربانی کرے تو یہ بھی درست ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» :(قوله والإقامة) فالمسافر لا تجب عليه وإن تطوع بها أجزأته عنها وهذا إذا سافر قبل الشراء، فإن المشتري شاة لها ثم سافر ففي المنتقى أنه يبيعها ولا يضحي بها أي لا يجب عليه ذلك، وكذا روي عن محمد. ومن المشايخ من فصل فقال: إن كان موسرا لا يجب عليه وإلا ينبغي أن يجب عليه ولا تسقط بسفره، وإن سافر بعد دخول الوقت قالوا ينبغي أن يكون الجواب كذلك اهـ»(6/ 312)