السلام علیکم
میں کراچی، پاکستان میں رہتا ہوں اور قربانی کے لیے ایک گائے خریدی ہے۔ اس قربانی میں دو حصے دار میری بہنیں ہیں، جن میں سے ایک کینیڈا اور دوسری امریکہ میں رہتی ہے۔ چونکہ شمالی امریکہ میں عید کی نماز، پاکستان میں عید کی نماز کے کئی گھنٹے بعد ادا کی جاتی ہے، اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ اگر گائے کو کراچی میں یہاں کی عید کی نماز کے بعد ذبح کر دیا جائے، تو کیا میری بیرونِ ملک رہنے والی بہنوں کی قربانی درست ہوگی، یا ان کے حصوں کے لیے ذبح کو ان کے اپنے ممالک میں عید کی نماز کے بعد تک مؤخر کرنا ضروری ہے؟مزید یہ کہ چونکہ خواتین پر عید کی نماز واجب نہیں ہے، تو کیا اس سے ان کی قربانی کے حصوں کے حکم پر کوئی اثر پڑتا ہے؟جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ اگرقربانی کرنے والا خود کسی اور ملک میں ہو اور قربانی کے لئے کسی کو دوسرے ملک میں وکیل بنائے تو اس صورت میں قربانی کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ قربانی دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں ہو، یعنی جس دن قربانی کی جائے وہ دن دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، ورنہ قربانی شرعاً درست نہیں ہوگی ، لہذا سائل کا پاکستان میں ایسے وقت میں قربانی کرناجس وقت کینیڈا اور امریکہ میں قربانی کاوقت ابھی داخل نہ ہواہو،درست نہ ہوگا ، بلکہ جب دونوں ممالک میں قربانی کاوقت ہواس وقت قربانی کرنا لازم ہوگا،جبکہ عورتوں پر نماز واجب نہ ہونے کے باوجود سائل کیلئے مذکور ممالک میں قربانی کا وقت داخل ہوئے بغیر قربانی کرنا درست نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في العناية شرح الهداية : لأن وقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر على ما ذكر في الكتاب وهو اليوم العاشر، ويفوت بغروب الشمس من اليوم الثاني عشر، فلا يجوز في ليلة النحر ألبتة لوقوعها قبل وقتها ولا في ليلة التشريق المحض لخروجه الخ ( كتاب الأضحية، ج 9، ص 513، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في بدائع الصنائع : وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة - وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعا وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعا، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس فإذا زالت ذبحوا عنه. (وجه) قول الحسن أن فيما قلنا اعتبار الحالين حال الذابح وحال المذبوح عنه فكان أولى ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه، ويجوز الذبح في أيام النحر نهارها ولياليها؛ وهما ليلتان: ليلة اليوم الثاني وهي ليلة الحادي عشر، وليلة اليوم الثالث وهي ليلة الثاني عشر، ولا يدخل فيها ليلة الأضحى وهي ليلة العاشر من ذي الحجة لقول جماعة من الصحابة رضي الله عنهم: أيام النحر ثلاثة الخ ( كتاب التضحية، ج 5، ص 74، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-