السلام علیکم ورحمۃاللّٰہ وبرکاتہ!
مجھے کسی مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کے 2لاکھ 50 ہزار مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 3 افراد ہیں مطلب
میری والدہ
میں اور میری اہلیہ
اس طرح صرف میرے گھر کے تین افراد آئی ایم ایف کے سات لاکھ پچاس ہزار کے قرضدار ہیں
اب پوچھنا یہ ہے کہ
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرض دار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے ؟
نوٹ ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے کس نے لیا قرضہ ہمیں پتہ بھی نہیں
اس مسلے کا کوئی حل نکال کر دیں
اور ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مر جائے تو پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔؟؟
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام اور ایک اوپن جیل میں قید بھی ہیں کیا غلاموں اور قیدیوں پر بھی قربانی جائز ہے۔
منجانب : قرض دار ، غریب ، مظلوم اور محکوم عوام
واضح ہو کہ کسی ملک کی حکومت کی طرف سے لیا گیا بیرونی قرض ہر شہری کے ذمہ ذاتی طورپرلازم اور شرعی قرض شمار نہیں ہوتا، بلکہ ملکی سطح پرنظم ونسق سنبھالنے اورنمائندگی کرنے والے افرادہی عالمی قوانین کے تحت اس کی ادائیگی کے پابندہوتے ہیں ۔ لہٰذا آئی ایم ایف یا دیگر اداروں سے حکومتِ پاکستان کے لیے لیا گیا قرض شرعاً ہر شہری کے ذمے انفرادی قرض نہیں ہوگاکہ اس کی وجہ سے اس سے احکامِ زکوٰۃ یاقربانی ساقط ہوسکیں یااس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اس کی جوابدہی اس پرلازم ہو۔لہذااس ملکی قرض کے باوجودبھی اگر کسی شخص کے پاس اپنی ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال موجود ہو جو نصابِ قربانی (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )کے برابر ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوگی، اوراس میں کوتاہی کرناعنداللہ قابل مواخذہ ہوگا۔
جبکہ معاشی یاسیاسی دباؤکی وجہ سے کسی آزادشہری پرغلامی یاقیدی ہونےکا اطلاق نہیں کیاجاسکتااورنہ ہی اس کی وجہ سے احکام شرعیہ میں تخفیف کی جاسکتی ہے ،اس لیے اس طرح کے حیلوں اوربہانوں سے احکام زکوٰۃ ،قربانی یادیگراعمال میں کوتاہی کرناجائزنہیں ،اس اجتناب لازم ہے۔