سوال یہ ہے کہ ایک خاتون سات تولے سونے کی مالک ہے لیکن کوئی ذریعۂ آمدن نہیں جس سے وہ قربانی کرسکے اور شوہر اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ بیوی کی طرف سے قربانی کردے یا بیوی کو اختیار دے کہ تم سونا بیچ کے قربانی کرلو،بیوی نہ سونا بیچ کے قربانی کرسکتی ہے اور نہ ہی شوہر کی نافرمانی کرسکتی ہے۔ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیئے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون کے پاس سات تولہ سونے کے ساتھ کچھ چاندی، نقدی یا ضرورت سے زائد سامان بھی موجود ہو، اور ان سب کی مجموعی مالیت نصابِ شرعی کو پہنچتی ہو تو اس پر قربانی واجب ہے، اگرچہ اس کے پاس مستقل ذریعۂ آمدن نہ ہو۔ لہٰذا اگر قربانی کے لئے الگ رقم موجود نہ ہو تو اپنی ملکیت میں موجود سونا یا دیگر زائد مال فروخت کرکے قربانی کرنا لازم ہوگا۔ نیز چونکہ وہ مال خاتون کی اپنی ملکیت ہے، اس لئے شرعاً اسے اپنے مال میں جائز تصرف کا اختیار حاصل ہے، لہٰذا قربانی کے واجب حکم کے معاملے میں شوہر کی فرمانبرداری اس پر لازم نہیں، اور بقدرِ ضرورت سونا فروخت کرکے قربانی کرنے کی صورت میں اس پر کوئی گناہ بھی نہیں ہوگا، البتہ حتی الامکان حکمت اور حسنِ معاشرت کے ساتھ شوہر کو اعتماد میں لے کر معاملہ کرنا بہتر ہے۔
کما فی الھندیۃ: (وَأَمَّا) (شَرَائِطُ الْوُجُوبِ) : مِنْهَا الْيَسَارُ وَهُوَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبِ صَدَقَةِ الْفِطْرِ دُونَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ وُجُوبُ الزَّكَاةِ... وَالْمُوسِرُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ مَنْ لَهُ مِائَتَا دِرْهَمٍ أَوْ عِشْرُونَ دِينَارًا أَوْ شَيْءٌ يَبْلُغُ ذَلِكَ سِوَى مَسْكَنِهِ وَمَتَاعِ مَسْكَنِهِ وَمَرْكُوبِهِ وَخَادِمِهِ فِي حَاجَتِهِ الَّتِي لَا يَسْتَغْنِي عَنْهَا، فَأَمَّا مَا عَدَا ذَلِكَ مِنْ سَائِمَةٍ أَوْ رَقِيقٍ أَوْ خَيْلٍ أَوْ مَتَاعٍ لِتِجَارَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَإِنَّهُ يُعْتَدُّ بِهِ مِنْ يَسَارِهِ (كِتَابُ الْأُضْحِيَّةِ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَفْسِيرِهَا وَرُكْنِهَا وَصِفَتِهَا وَشَرَائِطِهَا وَحُكْمِهَا وَفِي بَيَانِ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ وَمَنْ لَا تَجِبُ، ۵ / ۲۹۲، ط: دار الفكر)۔
وفی المصنف ابن أبي شيبة: عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق "(8/ 96)