السلام علیکم وہ حجام جو لوگو ں کی ڈاڑھی شیو کرے اسکو قربانی میں شریک کرنے سے باقیوں کی قربانی پر اثر پڑتا ہے؟
واضح ہوکہ داڑھی منڈانا اور دوسروں کی داڑھی مونڈنادونوں عمل شرعاً ناجائزاورحرام ہے،اور حجام کو اس ذریعہ سےجوآمدن حاصل ہووہ بھی حلال نہیں ہے ۔
البتہ اگر کسی شخص کی آمدنی حلال و حرام سے مخلوط ہو تو اس میں غالب کا اعتبار ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر حجام کی اکثر کمائی حلال ذرائع سے ہو تو اس کے ساتھ قربانی میں شرکت جائز ہے اور اس سے دوسرے شرکاء کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔اور اگر اس کی غالب آمدنی ناجائز کام سے ہو تو ایسے شخص کو قربانی میں شریک کرنا جائز نہیں۔ تاہم اگر وہ اپنی حلال آمدنی الگ کرکے اسی سے قربانی میں حصہ لے یا کسی حلال کمائی سے قرض لے کر قربانی کرے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ قربانی میں شرکت میں کوئی حرج نہیں۔
كما في سنن الترمذي» : عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أيها الناس، إن الله طيب ولا يقبل إلا طيبا»، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم} وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} قال: وذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يده إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟(5/ 95)
وفي الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»: أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.» (5/ 342)