کیا شیعہ کے ساتھ قربانی جائز ہے ؟
واضح ہوکہ شیعوں کے بہت سارے فرقہ ہیں اور ہر ایک کے عقائد مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا حکم بھی مختلف ہوتا ہے،جبکہ قربانی کے تمام شرکاء کے لۓ باقاعدہ مسلمان ہوناضروری ہے، اس لۓ اگر شرکاءِ قربانی میں سے کوئی ایک شریک بھی یقنی طورپر غیرمسلم ہو، تو اس کی وجہ سے باقی شرکاء کی قربانی بھی درست نہ ہوگی۔
لہذا اگر شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والاشخص مندرجہ ذیل کفریہ عقائد اور نظریات( مثلاً حضرت علیؓ کو خدا ماننا یا قرآنِ کریم میں تحریف کا قائل ہو نا، یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھنا یا حضرت عائشہؓ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا ماننا یا حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت کا منکر ہو نا یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھنا) کا حامل نہ ہوتو اس کے ساتھ قربانی کرنے کی صورت میں اگرچہ باقی شرکاء کی قربانی درست ہوجائے گی، لیکن عقیدہ اور نظریات چونکہ ایک مخفی چیز ہے اور ایسے مواقع پر عموما کوئی اس کا برملا اظہار بھی نہیں کرتا، اس لۓ قربانی جیسی اہم عبادت میں ایسے لوگوں کو شامل کرنے سے احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی رد المحتار: نعم لا شك فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشة او أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الالوهية فی علیّ أو أن جبرئیل غلط فی الوحی أو نحو ذلك من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ الخ (ج۴، ص۲۳۷)۔
وفیه ایضًا: ان الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنهما فهو کافر وان کان یفضل علیًّا علیهما فهو مبتدع (الی قوله) وسبّ احد من الصحابة وبغضه لا یکون کفرا لکن یضلل۔ الخ (ج۴، ص۲۳۷)۔
و فی الشامیۃ: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام(کتاب،ج:3،ص:46،ط: ایچ ایم سعید)