السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب محترم میری ماں اور میری رضاعی ماں کہتی ہیں کہ میں نے تمہیں دو دھ پلایا ہے میری ماں بھی اقرار کرتی ہے کہ تمہیں دودھ پلایا ہے اب ان عورتوں کی گواہی قبول ہوگی یا نہیں کیونکہ انکے پاس کوئی مرد گواہ نہیں اگر عورتوں کی گواہی قبول نہیں پھر میں انکی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں یانہیں؟
واضح ہو کہ ثبوتِ رضاعت کے لیے بھی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے فقط عورتوں کی گواہی سے اگر چہ رضاعت ثابت نہیں ہوتی، تاہم جب سائل کی والدہ اور دودھ پلانے والی عورت باقاعدہ مدتِ ضاعت میں اس دودھ پینے کی گواہی دے رہی ہے اور سائل کا اب تک مذکور لڑکی سے باقاعدہ نکاح نہیں ہوا، تو سائل کو مذکور لڑکی سے نکاح کرنے سے اجتناب چاہئے تاکہ آئندہ کی زندگی شکوک وشبہات سے محفوظ ہوسکے ۔
کمافی الھدایۃ: ولا تقبل في الرضاع شهادة النساء منفردات وإنما تثبت بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين الخ(کتاب الرضاع،ج:1،ص:220،مط: دار احياء التراث العربي)
وفی البدائع الصنائع: وأما البينة: فهي أن يشهد على الرضاع رجلان أو رجل وامرأتان ولا يقبل على الرضاع أقل من ذلك ولا شهادة النساء بانفرادهن الخ(فصل في بيان ما يثبت به الرضاع،ج:4،ص:14،مط: دار الكتب العلمية)
وفی العقود الدریۃ:(سئل) في شهادة النساء وحدهن على الرضاع هل تقبل؟
(الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية الخ(باب الرضاع،ج:1،ص:35،مط: دار المعرفة)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0