السلام علیکم: میں نے اپنی بیوی کو قسم دی تھی کہ اس سلائی مشین کے ساتھ کسی اور کے کپڑے سلائی نہیں کرے گی ،تو اگر ہم اس سلائی مشین کو بیچ دیں اور نئی لے لیں تو کیا یہ جو قسم ہے ختم ہو جائے گی؟
سائل نے قسم دینے کی مکمل تفصیل اور الفاظ ذکر نہیں کئے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ۔ تاہم اگر بیوی کے زبان سے کوئی حلفیہ جملہ نہ نکلا ہو یا شوہر کے قسم دینے کے جواب میں اس نے "ہاں ٹھیک " جیسے الفاظ نہ بولے ہوں تو ایسی صورت میں یہ قسم منعقد نہیں ہوئی، لہذا اسی سلائی مشین کے استعمال اور اس کے ذریعے دیگر لوگوں کے کپڑے سلائی کرنے سے بھی سائل کے بیوی کے ذمہ کسی قسم کا کوئی کفارہ لازم نہ ہوگا اور اس صورت میں وہ بلا شبہ اسی مشین کو استعمال میں لاسکتی ہے اسے بیچنے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی الدر المختار: (اليمين) لغة القوة. وشرعا (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف على الفعل أو الترك)(ج:3،:703)
وفیہ ایضاً: ولو قال عليك عهد الله إن فعلت كذا فقال: نعم فالحالف المجيب.(ج:3،ص:849،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد تحت قولہ"فان لم یفعلہ المخاطب: ورأيت في الصيرفية: مر على رجل فأراد أن يقوم فقال والله لا تقم فقام لا يلزم المار شيء لكن عليه تعظيم اسم الله تعالى اهـ(ص:848)
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0