اس مسئلہ کے متعلق علماءِکرام کیا فریاتے ہیں کہ ہمارے علاقہ میں ایک آدمی ہے جس کو وہم کی بیماری ہے کہ ایک کام کو دس بارہ مرتبہ سرانجام دیتا ہے ، بعض اوقات وہ ایک کام کو تین چار مرتبہ کر کے پھر یہ فرماتا ہے کہ ’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘ تو وہ اس الفاظ کی ادائیگی کے بعد دوبارہ اس کام کو سرانجام دیتا ہے، بعض اوقات وہ فرماتا ہے کہ ’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں رسولؐ کی امت میں شامل نہیں ہوں گا‘‘، لیکن پھر وہ ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد دوبارہ اس کام کو سر انجام دیتا ہے ، لیکن پھر وہ بعد میں کلمۂ توحید پڑھ لیتا ہے ، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ وہ ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد ان افعال کو سر انجام دیتے ہوئے کفر کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے یا نہیں؟
سوال میں مذکور خط کشیدہ الفاظ مذکور حالت میں بولنے کی بناء پر ان سے اگرچہ مذکور شخص کا دائرۂ اسلام سے خارج ہونا لازم نہیں ہوگا، تاہم یہ قسم کے الفاظ ضرور ہیں اورپھر چونکہ وہ اپنی قسم میں حانث ہو چکا ہے اور یہ دو قسمیں ہیں، اس لۓ اس پر دو قسموں کا کفارہ بھی لازم ہوچکاہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ لَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَ احْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ﴾ [المائدة: 89]۔
و فی الھندية : و لو قال : إن فعل كذا فهو يهودي ، أو نصراني ، أو مجوسي ، أو بريء من الإسلام ، أو كافر ، أو يعبد من دون الله ، أو يعبد الصليب ، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا كذا في البدائع . حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة اھ(2/54)۔
و فی ردالمحتار : بریئ من اللہ و بریئ من رسوله یمینان اھ(3/713)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0