میں نے تقریباً 3 سال پہلے قسم کھائی تھی کہ اگر میں نے (مخصوص) گناہ کیا تو میں مخصوص تعداد میں اور مخصوص وقت میں نوافل ادا کروں گا , شروع میں میں نوافل ادا کرتا رہا لیکن تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بعد میں , میں نے نوافل ادا کرنے چھوڑ دیے اور وہ گناہ مجھ سے بار بار ہوتا ہے , نیز اسی گناہ کے لئے میں نے کئی دفہ قسم کھائی کہ دوبارہ نہیں کرونگا , لیکن سر زد ہو گیا , احساس ہے کہ قسم نہیں کھانی چاہیئے تھی، نادم ہوں , میں نے ابھی تک کوئی کفارہ ادا نہیں کیا , میں مالی طور پر بھی بہت کمزور ہوں اور جسمانی طور پر بھی روزہ رکھنا مشکل ہے ( بوجہ شوگر ) , میں اب کیا کر سکتا ہوں؟
سائل نے جتنی بار قسم کھانے کے بعد قسم توڑدی ہو تو اس پر اسی اعتبار سے کفارہ ادا کرنا لازم ہیں،البتہ سائل اگر واقعۃً کفارہ ادا کرنے کی کسی بھی صورت میں استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے،اور جب استطاعت میسر ہو تب تمام کفارے ادا کرے -
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0