نذر توڑ نے کا کیا کفارہ ہے؟ قسم توڑ نے کا کیا کفارہ ہے؟
اگر کسی شخص نے مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اور پھر اس نے اپنی قسم توڑ دی ہو تو اس شخص کے ذمہ قسم کا کفارہ لازم ہو جاتا ہے، اور قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کو متوسط درجہ کے کپڑے پہنانا ۔ اور اگر ان دونو ں کی وسعت و قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھناہے،۔ جبکہ نذ ر کی کیا صورت تھی، اسکی تفصیل بھیجبے کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔
کما فی الدر : (وکفارتہ)(تحریررقبۃ أو إطعام عشرۃ مساکین) (او کسوتھم بما)یصلح للاو ساط وینتفع بہ فوق ثلاثۃ اشھر، و (یستر عامۃالبدن) فلم یجز السراویل الا باعتبار قیمۃ الاطعام (ولو ادی الکل) جملۃ او مرتبا ولم ینو الا بعد تما مھا للزوم النیۃ لصحۃ التکفیر (وقع عنھا واحد ھو اعلا ھا قیمۃ، ولو ترک الکل عوقب بواحد ہو ادنا ھا قیمۃ)لسقوط الفرض بالادنی (وان عجز عنھا)کلھا (وقت الاداء) عندنا(إلی قولہ) (صام ثلاثۃ ایام ولاء)ویبطل بالحیض،بخلاف کفارۃ الفطر۔ وجوز الشافعی التفریق ،واعتبر العجز عند الحنث مسکین (والشرط استمرار العجز الی الفراغ من الصوم،فلو صام المعسر یومین ثم)قبل فراغہ ولو بساعۃ (ایسر) ولو بموت مو رثہ موسرا (لا یجور لہ الصوم)ویستأنف بالمال خانیۃ، ولو صا م نا سیا للمال لم یجز علی الصحیح مجتبی۔ (ج۳/ص۷۲۵) واللہ اعلم باالصواب!
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0