السلام علیکم میں نے غصے میں اپنی ماں سے کہہ دیا تھا کہ میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی میں میرا ایک روپیہ بھی لگایا تو میں اپنی بیوی اس کو دیدوں گا اس کا آپ مجھے حل بتائیں
اپنى والدہ كى جواب ميں اس طرح كى باتيں كرنا جس اس كى ازارى ہو گناہ پر مبنى ہے جس كى وجہ سے سائل كو اس سے دست بستہ معافى اور آئيند ہ كيلئے اس قسم كى حركت سے اجتناب ضرورى ہے تاہم يہ كوئى قسم نہيں كہ اس كے خلاف كرنے سے كفارہ لازم ہوجائے اورنہ ہى يہ كوئى مشروط طلاق ہے بلكہ مـحض ايك دهمكى ہے اور بوقت ضرورت اس كے خلاف بهى كياجاسكتاہے
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0