جناب ہماری طرف مالی معاملات، زمینی معاملات، زمینی شراکت داری وغیرہ کے معاملات میں جب اسٹامپ پیپر لکھا جاتا ہے تو آخر میں لکھا جاتا ہے کہ ہم قرآن پر یہ فیصلہ یا معاملات کر رہے ہیں یعنی قرآن پر قسم اٹھا رہے ہیں کہ جس فریق نے اس اسٹامپ پیپر پر درج شرائط یا شقوں کی خلاف ورزی کی تو اس پر اللہ اور اس کے رسول کا قہر و عذاب نازل ہو۔ یہ الفاظ لکھ کر یا لکھوانے کے بعد دستخط کرنے سے قسم یا حلف واقع ہوجاتی ہے اور انسان اسی طرح اس کا پابند ہوجاتا ہے؟
واضح ہو کہ اگرچہ اپنے معاہدات و معاملات میں اللہ عزوجل کے نام کے علاوہ دیگر چیزوں مثلاًقرآن وغیرہ کی قسم کھانے سے شرعاً منع کیاگیاہے،لیکن اگرکوئی شخص قسم کے الفاظ کہتے ہوئے قرآن پاک کی قسم کھالے مثلاً یوں کہے کہ ( میں قرآن پاک کی قسم کھاتا ہوں) تو اس طرح کہنے سے قسم منعقد ہوجاتی ہے۔ لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے علاقہ میں معاملات و معاہدات کرتے وقت معاہدے کے آخر میں فقط مذکور جملہ ” ہم قرآن پر یہ فیصلہ یا معاملات کررہے ہیں“ لکھا جاتا ہو ،اس کے ساتھ قسم کے الفاظ نہیں لکھے جاتے ہوں یا زبان سے قسم کے الفاظ ادا نہیں کیے جاتےہوں تو محض مذکور جملہ لکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوگی۔ تاہم پھر بھی فریقین کو اس معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیئے، بلا عذر معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے۔
کما فی الدر المختار: (لا یقسم بغیر اللہ تعالیٰ کالنبی و القرآن و الکعبۃ) قال الکمال: و لا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینا و أما الحلف بکلام فیدور مع العرف۔ قال العینی: و عندی أن المصحف یمین لا سیما فی زماننا: و عند الثلاثۃ المصحف و القرآن و کلام اللہ یمین (إلی قولہ) لو تبرأ من أحدھا فیمین اجماعا إلا من المصحف إلا أن یتبرأ مما فیہ (الی قولہ) (ولا) یقسم (بصفۃ لم یتعارف الحلف بھا من صفاتہ تعالیٰ کرحمتہ وعلمہ ورضائہ وغضبہ وسخطہ وعذابہ) ولعنتہ وشریعتہ ودینہ وحدودہ وصفتہ وسبحان اللہ ونحو ذالک لعدم العرف (إلی قولہ) (وإن فعلہ فعلیہ غضبہ أو سخطہ أو لعنۃ اللہ أو ھو زان أو سارق أو شارب خمر أو آکل الربا لا) یکون قسما لعدم التعارف، فلو تعورف ھل یکون یمینا؟ ظاھر کلامھم نعم، وظاھر کلام الکمال لا، وتمامہ فی النھر إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ قال الکمال) مبنی علی أن القرآن بمعنی کلام اللہ، فیکون من صفاتہ تعالی کما یفیدہ کلام الھدایۃ (إلی قولہ) و (و قال العینی إلخ) عبارتہ: و حق ھذا فھو یمین (إلی قولہ) و (قولہ إلا من المصحف) أی فلا یکون التبری منہ یمینا لأن المراد بہ الورق و الجلد إلخ۔
وفیھا أیضاً: تحت (قولہ فعلیہ غضبہ إلخ) أی لا یکون یمینا أیضاً لأنہ دعاء علی نفسہ، ولا یستلزم وقوع المدعو بل ذالک متعلق باستجابۃ دعائہ ولأنہ غیر متعارف فتح إلخ۔ (کتاب الأیمان، ج 3، ص 712۔721، ط: سعید)۔
و فی البحر الرائق: تحت (قولہ و النبی و القرآن و الکعبۃ) و الحلف بالقرآن غیر متعارف مع أنہ یراد بہ الحروف و النقوش و فی فتح القدیر ثم لا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینا کما ھو قول الآئمۃ الثلاثۃ و تعلیل عدم کونہ یمینا بأنہ غیر تعالی لأنہ مخلوق لأنہ حروف (إلی قولہ) أما الحلف بکلام تعالی فیجب أن یدور مع العرف إلخ۔ (کتاب الأیمان، ج 4، ص 276، ط: ماجدیۃ)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0