میں نے غصے میں اپنی امی کی قسم کھائی کہ میں اپنے ایک دوست سے بات نہیں کروں گا، پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے بات کرلی، کفارہ ہوگا کیا؟
قسم، اللہ تعالیٰ یا اس کی صفات کے علاوہ کسی دوسرے کی درست نہیں اس لئے سائل اپنے مذکور قسم کی وجہ سے گناہ گار ہوا ہے، جبکہ اس کے خلاف کرنے کی وجہ سائل پر کوئی کفارہ بھی لازم نہیں، البتہ اسے چاہئے کہ اپنے اس فعل پر توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کیلئے غیر اللہ کی قسم کھانے سےا حتراز کرے۔
کما فی الھدایۃ: (ومن حلف بغیر اللہ لم یکن حالفًا کالنبی والکعبۃ) لقولہ علیہ السلام من کان منکم حالفًا فلیحلف باللہ أو لیذر۔ الخ
وفی الفتح تحتہ: وأما الحلف بجان سر تو ومثلہ الحلف بحیاۃ رأسک (الی قولہ) وعن ابن مسعود رضی اللہ عنہ لأن أحلف باللہ کاذبًا أحب الی من أن أحلف بغیر اللہ صادقًا۔ اھـ (ج٤، ص٣٥٦) واللہ اعلم
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0