NBP بینک میں جاب کی گنجائش ہے یا نہیں ؟اپنا گھر نہیں اور بینک ایمپلوائے کے طور پر قرض لیکر گھر لینا چاہتے ہیں۔
واضح ہو کہ روایتی بنک میں ملازمت کا حکم اس کام کی نوعیت پر موقوف ہے ،چنانچہ ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہو ،جیسے منیجر ،کیشئر وغیرہ کی ملازمت ،ایسی ملازمت بلکل ناجائز اور حرام ہے اور اس پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال نہیں ،البتہ اگر کام ایسا ہو جس کا سودی لین دین سے براہ راست تعلق نہ ہو (مثلاً سیکورٹی گارڈ ،باورچی وغیرہ)تو بعض اہل علم نے ضرورت کے درجے میں اس کی گنجائش ذکر کی ہے ،تاہم حتی المقدور سود سے پاک ادارے میں ملازمت اختیار کرنا بہتر ہے،نیز بنک ملازم کی حیثیت سے سودی قرض لیکر گھر خریدنا بھی شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
لقوله تعالى : ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
و فی فقه البیوع : اما اذا کانت الوظیفۃ لیس لھا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات الربویۃ مثل وظیفۃ الحارس او سائق السیارۃ ، او العامل علی الھاتف ، او المؤظف المسؤل عن صیانۃ البناء (الیٰ قولہ)فلا یحرم قبولھا ان لم یکن بنیۃ الاعانة علی العملیات المحرمۃ ، و ان کان الاجتناب عنھا اولیٰ ، و لایحکم فی راتبہ بالحرمۃ ، لما ذکرنا من التفصیل فی الاعانۃ و التسبب و فی کون مال البنک مختلطاً بالحلال و الحرام و یجوز التعامل مع مثل ھؤلاء المؤظفین ھبۃً او بیعاً او شراءً اھ (ص/1065)
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ ج: 5،ص: 166۔)