محترم جناب :امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں آپ کی رہنمائی چاہتاہوں، ایک چینی کمپنی ہمارے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنا چاہتی ہے،اسلحہ اور ایمونیشن براۓ شکار ،پاکستان میں تیار کیا جاۓ گا، جو اس وقت درآمد کیاجاتاہے،گدھے کا سلاٹر ہاؤس جس کی مکمل ایکسپورٹ چین میں کی جاۓ گی ، کیونکہ یہاں اسے مکروہ سمجھا جاتاہے، جبکہ چین میں اسے زندگی بچانے والی ادویات کے لئے استعمال کیا جاتاہے، اس وقت پاکستان کو زرمبادلہ کی ضرورت ہے اور ان چیزوں سے زر مبادلہ کمایا جاسکتاہے، آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
واضح ہو کہ اسلحہ اور بارود بنانا اور اس کی خرید وفروخت اگر ملکی قانوں کے تحت ہو اور مجاز اداروں سےباقاعدہ اس کی منظوری اور لائسنس بھی لے لی جاۓ تو شرعاً بھی اس طرح کا کاروبار کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ خرید وفروخت میں شرعی اصول وضوابط کا لحاظ رکھاجاۓ، جبکہ گدھے کا گوشت چونکہ شرعاً حلال نہیں، اس لئےاسے ذبح کرکے مسلمانوں کی مارکیٹ میں دیگر حلال جانور کے گوشت کے ساتھ اس کی خرید وفروخت تو جائز نہیں ، البتہ اسے زبح کرنے کے بعد چونکہ اس کا گوشت پاک ہوجاتاہے اس لئے قانونی تقاضے پوراکرتے ہوۓ سوال میں مذکور مقصد کے لئے اس ایکسپورٹ کرنےکی گنجائش ہے۔
کما فی الھندیۃ: ويجوز بيع لحوم السباع والحمر المذبوحة في الرواية الصحيحة ولا يجوز بيع لحوم السباع الميتة كذا في محيط السرخسي وأما جلود السباع والحمر والبغال فما كانت مذبوحة أو مدبوغة جاز بيعها وما لاالخ (الفصل الخامس فی بیع المحرم وفی بیع المحرمات، ج:3،ص:115، ناشر: ماجدیہ)
وفی تکملۃ فتح الملھم :تحت قول اللہ (يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ)ان المسلم یجب علیہ ان یطیع امیرہ فی الامورالمباحۃ فان امرالامیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ وان نہیٰ عن امر مباح حرم ارتکابہ اھ(باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ، ج: 3، ص: 323، ناشر: دارالعلوم )